Urdu Poetry کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں

Sehrish

Pro Member
کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں
مشت بھر خاک کے گملوں میں پڑے یار میاں
اپنے ہونےکی سزا کاٹتے پھرتے ہیں سبھی
کوئی اندر کوئی باہر سے گرفتار میاں
ڈھل گئی عمر میری شعبدہ بازی والی
اب میرے پاؤں پکڑ لیتے ہیں انگار میاں
خاک اس بیل کی صورت کو ترس جاتی ہے
راس آجائے جسے موسمِ دیوار میاں
زلزلے رزق بڑھا دیتے ہیں مزدوروں کا
کام فطرت کوئی کرتی نہیں بیکار میاں
لگ گیا شہر کا ہر شخص شجرکاری میں
میں ہوں صحرا سے اجازت کا طلبگار میاں
یہ جو سنتا ہوں توجہ سے میں باتیں اس کی
ہاتھ لگ جاتے ہیں مصرِعے مرے دو چارمیاں
جس کی تصویر بنا لیتی ہیں آنکھیں میری
گھیر لیتی ہے وہ نکتہ میری پرکار میاں
چٹخنی دل نےچڑھا رکھی ہے ہونٹوں پہ کبیر
بند اندر سے ہے دروازہ ِ گفتار میاں
کبیر اطہر

Continue reading...
 
Top