کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
کوئی آدھا دکھائی دیتا ہے
کوئی دِکھتا ہے سروقامت اور
کوئی بونا دکھائی دیتا ہے
آدھے آدھے کے عادی لوگوں کو
آدھا آدھا دکھائی دیتا ہے
جس طرف بھی نگاہ دوڑائیں
ایک دھوکہ دکھائی دیتا ہے
اُتنا سیدھا وہ ہے نہیں، جتنا
سیدھا سادہ دکھائی دیتا ہے
آنکھ میں آنسوؤں کا دریا ہے
دل میں صحرا دکھائی دیتا ہے
ایسا بوڑھا ہوں جو کہ چہرے سے
ایک بچہ دکھائی دیتا ہے
کر کے اِتنے جتن بھی وہ مجھ سے
بدگماں سا دکھائی دیتا ہے
آئینہ رُو برو کروں تو مجھے
عکس تیرا دکھائی دیتا ہے
آج ہر فرد وقت کے ہاتھوں
پارہ پارہ دکھائی دیتا ہے
کلام عمران اسدؔ
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔