یوکے سے پی آئی اے ڈائریکٹ فلائٹس التواء کا شکار
تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)
یوکے نے پاکستان انٹرنیشنل ا ئیرلائنز (پی آئی اے) کی فلائٹس پر یوکے سے پابندی نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ توقع کی جا رہی تھی کہ پی آئی اے کی فرانس کے شہر پیرس سے پروازیں شروع ہو جانے کے بعد برطانیہ سے بھی ڈائریکٹ فلائٹس شروع ہو جائیں گی جسکا پاکستانی کمیونٹی کو بڑی بے صبری سے انتظار تھا-
برطانیہ سے عام دنوں کے علاوہ موسم گرما کی چھٹیوں میں اکثر لوگ پاکستان سفر کرتے ہیں لیکن پی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹ نہ ہونے کیوجہ سے دیگرا ئیر لائنز سے سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جسکے لۓ بھاری بھر کم کرایوں کیساتھ ساتھ کم از کم تین چار گھنٹے سفر میں زیادہ ٹائم بھی لگتا ہے اور جس ملک کی ائیرلائن کیساتھ سفر کر رہے ہوں وہاں پر جہاز تبدیل کرنے کی مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے جو یقیناً چھوٹے بچوں، خواتین، بیماروں اور عمر رسیدہ افراد کیلۓ اضافی سفری تھکاوٹ کا سبب بھی ہوتی ہے-
انہی سطور میں پہلے بھی لکھا ہے کہ پی آئی اے کی پروازوں پر بندش سے نہ صرف پی آئی اے کو بطور ادارہ بھاری نقصان کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر وطن عزیز پاکستان کی معیشت کو بھی زرمبادلہ کی صورت میں سالانہ اربوں ڈالر کا بھاری نقصان ہو رہا ہے بلکہ بیرون ممالک میں مقیم اوورسیزپاکستانیوں اور ڈئیول نیشنل لوگوں کو جو گاہے بگاہے وطن آتے جاتے رہتے ہیں بھی ڈائریکٹ فلائیٹ کی سہولت سے محرومی کا سامنا ہے اور جو لوگ اپنے فوت ہو جانے والے کسی فیملی ممبر کی میت پاکستان لے جاتے تھے وہ بھی اس سہولت سے محروم ہیں- اپنے لکھے ہوۓ کو پھر دہرا رہا ہوں کہ ”پی آئی اے کے بارے میں تمام قسم کی شکائتوں کے باوجود بہرحال یہاں یوکے اور یورپ و دیگر مغربی ممالک سے ڈائریکٹ فلائیٹس مسافروں کیلۓ ایک زبردست قسم کی سہولت ہے اور پی آئی اے کو بطور ادارہ ماضی کی اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے اور کوشش ہو کہ آئندہ نہ تو انٹرنیشنل سطح پر ایوی ایشن کے اداروں کو اور نہ ہی مسافروں کو کوئی شکایت ہو“ لیکن افسوس کہ اب کراچی سے لاہور پرواز کا ایک پہیے کے بغیر لینڈنگ کے واقعہ کی مکمل انکوائری اور تفتیش سے جب تک یوکے ایوی ایشن کے حکام مطمئن نہیں ہوتے یہ معاملہ تاخیر کا شکار رہے گا اس لۓ پی آئی اے حکام کو متعلقہ فورم پر ہر قسم کے اعتراضات اور شکائتوں کو فی الفور دور کرنے کی پوری اور مخلصانہ کوشش کرنی چاہئیے تاکہ برطانیہ سے پاکستان پی آئی اے کی ڈائریکٹ فلائٹس شروع ہو سکیں-
یوروپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے نومبر 2024 میں PIA پر پابندی جب ختم کی تھی تو پی آئی اے کی برطانیہ کے آسمانوں میں ممکنہ واپسی کی راہ ہموار ہوتی نظر آئی اور عام تاثر تھا کہ برطانیہ سے بھی پروازوں پر پابندی ختم ہونا دنوں کی بات ہے اس ضمن میں پی آئی اے کی یوکے میں کنٹری منیجر نادیہ گل نے امسال کے آغاز میں لندن میں میڈیا کو بتایا تھا کہ برطانیہ کے تین شہروں سے ڈائریکٹ فلائٹس شروع ہو جائیں گی جبکہ فلائٹس آپریشن کے لۓ تین اسٹیشنز کے لۓ پی آئی اے نے سٹاف کی بھرتی کے لۓ چند آسامیاں بھی مشتہر کی تھیں اور غالب امکان تھا کہ برطانوی محکمہ ایوی ایشن کی سفارشات پر ماہ مارچ 2025 کے اختتام پر پابندی کی فہرست سے پاکستان کا نام نکال دیا جاۓ گا لیکن بھلا ہو پی آئی اے کی اندرون ملک کراچی سے لاہور کی ایک پرواز 306 کا جس نے لاہور ہوائی اڈے پر گزشتہ دنوں جب لینڈ کیا تو اس کا ایک پہیہ ہی غائب تھا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اِس گم ہونے والے پہیہ کی انکوائری ابھی چل رہی ہے کہ پہیہ کیوں اور کیسے لاپتہ ہوا؟ اور جب تک اس واقعے کی تفتیش یا انکوائری مکمل نہیں ہوتی، یوکے ایوی ایشن حکام نے یوکے سے پاکستان، پی آئی اے کی پروازوں کو نو فلائی لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تفتیش و انکوائری کے مکمل نتائج سامنے آنے پر سیفٹی چیکس کے حوالے سے دوباره فلائٹس بحالی کا جائزہ لیا جاۓ گا-
پی آئی اے کا شمار کبھی دنیا کی بہترین ائیرلائنز میں ہوتا تھا لیکن اسکی فلائیٹس بدقسمتی سے برطانیہ سمیت یورپ بھر اور مختلف مغربی ممالک کیلئے 2020 میں پابندی لگ جانے کی وجہ سے معطل ہوئیں جو جنوری 2025 میں یورپ سے تو بحال ہو چکی ہیں لیکن یو کے اور یو ایس اے سے ابھی تک بحالی کی منتظر ہیں- یورپ سے فلائٹس کی بحالی کے بعد وہاں سے بہت جلد پروازیں شروع ہوئیں جسکی وجہ سے یوکے کے تین شہروں لندن، برمنگھم اور مانچسٹر سے بھی فلائٹس شروع کرنے کے لۓ پی آئی اے کی یوکے میں تعینات کنٹری منیجر نے ضروری انتظامات شروع کر دئیے اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ یوکے سے ڈائریکٹ فلائٹس جلد بحال ہوں گی اور مسافروں کو ڈائریکٹ فلائٹس کی سہولت سے انگلینڈ سے پاکستان پہنچنے میں صرف سات گھنٹے لگا کریں گے-
1955 میں اپنی سروس کا آغاز کرنے والی پی آئی اے شاندار اور تاریخی اہمیت کا حامل ماضی رکھنے والی ائیر لائن ہے جس نے امارات ائیر لائن جیسی شاندار ائیرلائن کو اس کے ابتدائی عرصے میں معاونت بھی فراہم کی جبکہ پوری دنیا کے اکثر و بیشتر ائیرپورٹس پر ڈائریکٹ فلائٹس کے حقوق حاصل کر کے نہ صرف اپنی منفرد پہچان بنائی بلکہ ائیرمارشل (ریٹائرڈ) نور خان کی سربراہی میں 1959 سے 1965 تک اس کا شمار دنیا کی پانچ بہترین ائیر لائینز میں ہوتا تھا لیکن پھر پاکستان کے دیگر اداروں کی طرح یہاں بھی حالات ایسے روبہ زوال ہوۓ کہ کبھی فلائٹس میں صفائی ستھرئی کی شکائتیں اور کبھی غیر معیاری کھانے کے تذکرے، کبھی دوران سفر کمبل اور تکئیے نہ ملنے کا ذکر اور کبھی سیٹوں کے سامنے لگیں سکرینز کا کام نہ کرنا اور کبھی ٹوائلٹس کی عدم صفائی جیسے چھوٹے چھوٹے معاملات کی شکائتیں عام ہوئیں تو کبھی جہازوں کے عملے کے بارے میں بیرونی ممالک میں غائب ہو جانے کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنتی رہیں لیکن بدقسمتی سے متعلقہ حکام کی جانب سے اسے سدھارنے کی وہ کوششیں نظر نہ آئیں جو اس کا تقاضا تھا-
کہا جا رہا ہے کہ اب یوکے ایوی ایشن حکام جاننا چاہتے ہیں کہ کراچی سے لاہور پرواز کا پہیہ کیوں اور کیسے گم ہوا؟ جبکہ کچھ سال پہلے پی آئی اے کا بیرون ملک کسی ائیرپورٹ پر ایک جہاز ہی غائب ہو جانے یا بیچ دئیے جانے کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تھیں لیکن کوئی ٹھوس حقائق سامنے نہیں لاۓ گۓ تھے کہ یہ کیا ماجرا تھا-پی آئی اے کے لندن آفس کی بندش کی اطلاعات بھی ہیں جس پر پاکستانی نژاد ممبر پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو ایک خط لکھ کر پی آئی اے لندن آفس کی بندش پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ایسے وقت میں جب یوکے اور یو ایس اے سےفلائٹس کی بحالی کے لۓ کوشش کرنے کی ضرورت ہے پی آئی اے کو اپنا لندن آفس بند نہیں کرنا چاہیۓ-
شاندار تاریخ کی حامل یہ ائیر لائن ایک عرصے سے نہ صرف خسارے کا شکار ہے بلکہ گزشتہ دور حکومت میں ایک طیارہ کریش ہو جانے کی انکوائری کے دوران درجنوں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے انکشاف پر بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے اور حال ہی میں جب پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کے سلسلے میں ٹیٹنڈر طلب کۓ گۓ تو بڑی ہی مضحکہ خیز قسم کی انتہائی کم بولی لگی تھی جو بذات خود پی آئی اے جیسے ادارے کا مذاق تھا یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور محرکات تھے کہ یوں ایک شاندار ماضی کی حامل ائیرلائن کو اونے پونے بیچنے کی راہ ہموار کی جا سکے-
وطن عزیز پاکستان میں آنے والی ہر نئی حکومت اور نئے حکمرانوں سے عام عوام کی یہ امیدیں ہوتی ہیں کہ شاید یہ کچھ ایسا کریں گے کہ وطن عزیز کے بڑے بڑے ادارے مثلاً پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز وغیرہ کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کی کوئی صورت نظرآئے گی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ
وائے ناکامی متاعِ کاروں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
(ختم شد)
Title Image by G.C. from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |