آنے والا ہے پھر ماہ رمضان کا
سر پہ چھانے لگی رحمتوں کی گھٹا
جب کارواں سراۓ کا ذکر کیا جائے تو اٹک میں واقعہ بیگم کی سراۓ کا ذکر لازم ہے ۔یہ سراۓ کب تعمیر کی گئی اور کس نے تعمیر کی اس کے ٹھوس شواہد موجود نہیں
کاروان قلم اٹک کے زیر اہتمام "حبدار ادبی بیٹھک” پر پنجابی زبان کے کیمبلپوری لہجے میں 21 مارچ کو ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا
گاؤں کی گلیاں82 ۔1981 میں یونیسف ادارے کے تعاون سے بنی تھیں جو کہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ووٹ لینے والے وعدہ کرتے رہے ہیں
وہ اگر لوہے سے مس کیا جائے یا چھو جائے تو اسے سونے میں بدل دیتا تھا اس پتھر کو پارس کہا جاتا ہے اور عرف عام میں سنگ پارس بھی کہتے ہیں
میں اس وقت پشاور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا جب ھندوستان نے رات کے اندھیرے میں ، ہمارے ملک پہ حملہ کردیا ۔
2013 کا سال ادبی تاریخ مرتب کرنے والوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہاں اٹک سے یکے بعد دیگرے دو رسائل نعتیہ ادب کی ترویج و
آخر کبھی تو ایسا ہونا ہے کہ اس دنیا سے ظلم و زیادتی ختم ہو جائے۔ حقوق کا غصب ہونا بند ہو جائے اور امتیازات مصنوعی جاتے رہیں