مراد رسول حضرت عمرؓ فاروق کی روضۂ رسول ﷺ پر حاضری
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ اور ایک اعرابی کا قصہ تواتر کے ساتھ شئیر کیا جارہا ہے جو ایمان افروز ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہے اس میں ایک اعرابی نے ایسی دعا مانگی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ پہلے اعرابی اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا قصہ سنتے ہیں پھر اس پر بات کرتے ہیں "حضرت عمرؓ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے روضہٕ اقدس کی زیارت کے لئے گئے وہاں روضہ کے سامنے ایک (اعرابی) دیہاتی کھڑا دعا مانگ رہا تھا۔ حضرت عمرؓ اس کے پیچھے خاموش کھڑے ہو گئے وہ اعرابی یہ دعا مانگ رہا تھا (اے میرے رب یہ آپ کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، میں آپ کا بندہ (غلام ) ہوں اور شیطان آپ کا دشمن ہے) اے میرے رب اگر آپ میری مغفرت کر دیں گے تو آپ کےحبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خوش ہو جائیں گے اور آپ کا یہ بندہ کامیاب ہو جائے گا اور آپ کا دشمن غمگین اور ذلیل و خوار ہو جائے گا اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی تو آپ کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پریشان ہو جائیں گے، دشمن خوش ہو جائے گا اور یہ بندہ ہلاک ہو جائے گا۔ آپ بہت کرم اور عزت و شرف والے اس بات سے بہت بلند و بالا ہیں کہ آپ اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو پریشان، اپنے دشمن کو خوش اور اپنے بندے کو ہلاک کریں۔ اے میرے اللہ شرفاءِ عرب کا دستور ہے کہ جب ان میں سے کسی سردار کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کی قبر پر اس کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا ہے اور یہ تو تمام جہانوں کے سردار کی قبر مبارک ہے مجھے ان کی قبر مبارک پر جہنم کی آگ سے آزاد فرما۔ حضرت عمرؓ نے بھی اونچی آواز میں کہا اے میرے رب میں بھی یہی دعا مانگتا ہوں جو اس اعرابی نے مانگی ہے اور اتنے روئے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی”۔
مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے دوران یہ واقعہ پیش آیا، جس میں ایک اعرابی (دیہاتی) کی عاجزی، عشقِ رسول ﷺ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر پختہ یقین کی جھلک نمایاں طور محسوس کی جاسکتی ہے۔ دیہاتی کی دعا میں عشقِ رسول ﷺ اور ادب کا اظہار نمایان ہے۔ اعرابی کا دعا مانگنے کا انداز نہایت مؤدبانہ، محبت بھرا اور عقیدت سے لبریز تھا۔ اُس نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست پیش کی اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ قرار دیتے ہوئے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ کے محبوب کے طور پر پیش کیا۔ یہ انداز بیان اس کے عشقِ رسول ﷺ اور احترام کی علامت ہے۔
اعرابی نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، کرم اور بزرگی کی بنیاد پر پیش کیا۔ اُس نے یہ واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے، اپنے بندے کو ہلاک نہیں کریں گے اور اپنے دشمن کو خوش نہیں کریں گے۔ یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت پر اعتماد اور یقین کا عکاس ہے۔ اعرابی نے عرب کے شرفاء کے دستور کا حوالہ دیا کہ جب کسی سردار کا انتقال ہوتا ہے تو اُس کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا ہے۔ اس استدلال کے ذریعے اُس نے اللہ کے حضور التجا کی کہ چونکہ یہ تمام جہانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا روضہ مبارک ہے، لہٰذا اللہ کی عظمت اور کرم کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے۔ حضرت عمرؓ فاروق جیسے جلیل القدر صحابی کا اعرابی کی دعا سن کر جذباتی ہو جانا اور اس کے اندازِ دعا کی تقلید کرتے ہوئے رو رو کر دعا کرنا اس واقعہ کی صداقت اور اثر انگیزی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ حضرت عمرؓ فاروق کا دعا میں شریک ہونا اور اعرابی کی دعا کو قبولیت کی امید کے ساتھ دہرانا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے حضور عاجزی، عشق اور ادب کے ساتھ مانگی گئی دعا بہت قدر و منزلت رکھتی ہے۔ دیہاتی اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا یہ واقعہ روحانیت کے ایک عظیم سبق کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسان خلوصِ دل اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبے کے ساتھ اللہ کے حضور دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ضرور متوجہ ہوتی ہے۔ دعا مانگنے والے کی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ ہی اُس کی دعا کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔ اس واقعے میں موجود دعا سے عاجزی، محبت، ایمان اور یقین کی تعلیم ملتی ہے۔ دعا کرنے والے نے اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ کیں اور رسول اکرم ﷺ کی محبت کو اپنی دعا کی قبولیت کا وسیلہ بنایا۔
مراد رسول حضرت عمرؓ فاروق اور اعرابی کا یہ واقعہ ہمیں دعا کے طریقے اور عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت سکھاتا ہے۔ جب انسان عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور اپنی دعائیں پیش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ضرور شاملِ حال ہوتی ہے۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے وقت محبت، عاجزی اور کامل یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ الله ہمیں بھی اس اعرابی کی طرح دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ”کافرستان”، اردو سفرنامہ ”ہندوکش سے ہمالیہ تک”، افسانہ ”تلاش” خودنوشت سوانح عمری ”چترال کہانی”، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |