مقبول ذکی مقبول کا ادبی سفر
مضمون نگار: سید حبدار قائم
اردو اور سرائیکی ادب کی بستی میں بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بڑے دعوے، نمود و نمائش اور شہرت کی طلب کے بغیر خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں ان کے لیے ادب محض نام کمانے کا وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے، محسوس کرنے اور دوسروں تک اپنے احساسات پہنچانے کا ایک خوب صورت ذریعہ ہوتا ہے بھکر کے ذرے ذرے سے پیار کرنے والے مقبول ذکی مقبول بھی ایسے ہی ادبی مسافر ہیں جنہوں نے اپنی سادہ طبیعت، شائستہ گفتگو، وسیع مطالعے اور مسلسل ادبی جدوجہد کے ذریعے اردو اور سرائیکی ادب میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے
کتابوں سے عشق کرنے والے مقبول ذکی مقبول کا تعلق بھکر سے ہے اور بھکر کی مٹی نے انہیں وہ سادگی اور بے ساختگی عطا کی ہے جو ان کی شخصیت اور تحریروں دونوں میں نمایاں دکھائی دیتی ہے وہ سادہ لباس پہنتے ہیں، گفتگو میں تکلف سے گریز کرتے ہیں اور ان کی زبان میں شائستگی اور مٹھاس پائی جاتی ہے ان کی شخصیت کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقی ادیب وہی ہے جس کے ظاہر اور باطن میں زیادہ فاصلہ نہ ہو مقبول ذکی مقبول کی سادگی ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی شخصیت کا حسن ہے۔
میری مقبول ذکی مقبول سے باقاعدہ ملاقات اگرچہ بالمشافہ نہیں بلکہ فیس بک کے وسیلے سے ہوئی لیکن ادبی دنیا میں بعض تعلقات فاصلے کے باوجود اتنے گہرے ہو جاتے ہیں کہ انسان محسوس کرتا ہے جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتا ہو سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تحریروں، ادبی سرگرمیوں اور مختلف اہلِ قلم سے ان کے رابطوں کا مشاہدہ ہوتا رہا ان کے ادبی سفر کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ محض لکھنے والے نہیں بلکہ ادب کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانے والے انسان ہیں۔
مقبول ذکی مقبول کا اصل وصف ان کا مسلسل ارتقائی سفر ہے وہ ایک مقام پر ٹھہر جانے کے قائل نہیں ان کی شاعری میں سادہ الفاظ کے ذریعے دل کی بات کہنے کی کوشش ملتی ہے۔ ان کے ہاں مشکل الفاظ کی نمائش یا ثقیل تراکیب کا بوجھ نہیں بلکہ عام فہم زبان میں جذبات اور خیالات کی ترجمانی نظر آتی ہے یہی سادگی ان کی شاعری کو قاری کے قریب لے آتی ہے ان کے اشعار میں زندگی کے مختلف رنگ، انسانی جذبات، معاشرتی مشاہدات اور محبت و احساس کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں
ان کی نثر بھی اسی سادگی اور روانی کی آئینہ دار ہے وہ جب نثر لکھتے ہیں تو الفاظ کو غیر ضروری طور پر مشکل بنانے کے بجائے بات کو سیدھے اور مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی نثر میں جان اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ موضوع کو محض الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے مشاہدے اور مطالعے کے ذریعے محسوس کرتے ہیں ان کا اسلوب قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے اور یہی ایک اچھے نثر نگار کی بنیادی خوبی ہے
مقبول ذکی مقبول کی ایک اہم ادبی سرگرمی انٹرویو نگاری بھی ہے۔ بظاہر کسی ادیب یا شاعر کا انٹرویو کرنا آسان کام محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک فن ہے سوالات کا انتخاب، گفتگو کا تسلسل، شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانا اور غیر محسوس انداز میں کسی قلم کار کے اندر چھپے خیالات تک پہنچنا ایک تجربہ کار ادیب ہی کے لیے ممکن ہوتا ہے مقبول اس فن سے بخوبی واقف ہیں ان کے انٹرویوز میں صرف سوال و جواب نہیں ہوتے بلکہ متعلقہ شخصیت کے ادبی سفر، فکر، شخصیت اور تخلیقی تجربات کو سمجھنے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے
اسی طرح کتابوں پر تبصرہ نگاری بھی ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم حصہ ہے کسی کتاب پر تبصرہ کرنا صرف کتاب کا تعارف پیش کرنا نہیں بلکہ اس کے محاسن، موضوع، اسلوب، فنی خوبیوں اور ادبی اہمیت کو سمجھ کر قاری کے سامنے پیش کرنا ہے مقبول ذکی مقبول نے مختلف اہلِ قلم کی کتابوں پر تبصرے لکھ کر نہ صرف ان کتابوں کو قارئین تک پہنچایا بلکہ نئے اور پرانے ادیبوں کے درمیان ایک ادبی پل کا کردار بھی ادا کیا ہے
وہ مختلف اخبارات اور رسائل میں بھی مسلسل لکھتے ہیں ان کی تحریریں مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں اور یہی وسعت ان کے ادبی مزاج کی علامت ہے۔ ان کا قلم کسی ایک صنف یا ایک مخصوص موضوع تک محدود نہیں شاعری، نثر، تبصرہ، انٹرویو اور ادبی مضامین کے ذریعے وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہتے ہیں۔ اگر ان کا نام گوگل پر تلاش کیا جائے تو ان کی متعدد تحریریں اور ادبی سرگرمیاں سامنے آ جاتی ہیں یہ کسی بھی لکھنے والے کے لیے اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ادبی کاوشیں قارئین تک مسلسل پہنچ رہی ہیں
مقبول ذکی مقبول کے ادبی مزاج کی ایک نمایاں خوبی ان کا وسیع مطالعہ ہے وہ مطالعے کے دھنی ہیں ایک ادیب کے لیے مطالعہ وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں تخلیق کے راستے روشن ہوتے ہیں مطالعہ جتنا وسیع ہوگا مشاہدہ اتنا ہی گہرا اور اظہار اتنا ہی پختہ ہوگا مقبول کے ہاں بھی مطالعے کے اثرات ان کی تحریروں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں وہ مختلف اہلِ قلم کے کام سے واقف رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے ادبی روابط کا دائرہ بھی وسیع ہے۔
ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے شعرا اور ادیبوں سے ان کا مسلسل رابطہ رہتا ہے یہ رابطے محض رسمی تعلقات نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بیٹھے ہوئے اہلِ قلم کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور ان کی تخلیقات کو متعارف کرانا ہماری ادبی فضا کے لیے ایک مثبت عمل ہے مقبول ذکی مقبول اس کام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کی ادبی خدمات کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ان کی متعدد کتابوں پر تحقیقی مقالے اور تھیسز لکھے جا چکے ہیں کسی قلم کار کی تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے فن کو محض وقتی یا سطحی اہمیت حاصل نہیں بلکہ اس میں تحقیق کے لیے مواد موجود ہے یہ امر مقبول ذکی مقبول کے لیے یقیناً باعثِ اطمینان بھی ہے اور آئندہ کے لیے مزید تخلیقی محنت کا حوصلہ بھی۔
ادبی تنظیموں کی طرف سے انہیں متعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں اعزازات کسی بھی ادیب کی اصل منزل نہیں ہوتے تاہم جب ادبی حلقے کسی تخلیق کار کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ اس کی محنت کے اعتراف کی ایک خوب صورت صورت بن جاتی ہے مقبول ذکی مقبول کو ملنے والے اعزازات ان کے مسلسل ادبی سفر کی پذیرائی ہیں اصل کامیابی البتہ یہ ہے کہ قلم کار اعزاز ملنے کے بعد بھی اپنے سفر کو روکنے کے بجائے مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔
مقبول ذکی مقبول کی شخصیت کا ایک اور خوب صورت پہلو یہ ہے کہ وہ ملک بھر کے ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ ادب کو کسی مخصوص شہر یا حلقے کی جاگیر نہیں سمجھتے بلکہ اسے پورے معاشرے کی مشترکہ میراث تصور کرتے ہیں ان کا یہ رویہ ادبی برادری کے لیے قابلِ قدر ہے کیونکہ ادب کا حسن بھی اسی وقت بڑھتا ہے جب مختلف علاقوں، زبانوں اور فکری رویوں کے اہلِ قلم ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں۔
اردو کے ساتھ ساتھ سرائیکی ادب سے ان کی وابستگی بھی قابلِ ذکر ہے سرائیکی وسیب محبت، مٹھاس، درد اور سادگی کی زبان ہے اور مقبول ذکی مقبول نے اس زبان کے ادبی سرمائے سے بھی اپنا رشتہ قائم رکھا ہے اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں میں ان کی
دلچسپی ان کے ادبی افق کو وسیع کرتی ہے ایک ہی وقت میں دو زبانوں کے ادبی مزاج کو سمجھنا اور ان میں اظہار کی کوشش کرنا یقیناً ایک قابلِ تحسین ادبی وصف ہے۔
مقبول ذکی مقبول کا سفر ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفر مسلسل جاری ہے ان کی تحریروں میں وقت کے ساتھ بہتری آ رہی ہے، تجربات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اظہار میں پختگی پیدا ہو رہی ہے۔ ایک اچھا ادیب کبھی یہ نہیں سمجھتا کہ اس نے ادب کی آخری منزل حاصل کر لی ہے وہ ہر نئی کتاب، ہر نئے مضمون اور ہر نئے شعر کے ساتھ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے مقبول ذکی مقبول کے ہاں یہی ارتقائی عمل دکھائی دیتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ مستقبل میں ان کی مزید کئی کتابیں منصۂ شہود پر آنے والی ہیں یہ کتابیں ان کے ادبی سفر میں نئے سنگِ میل ثابت ہوں گی امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی آئندہ تخلیقات میں تجربے کی پختگی، مطالعے کی گہرائی اور اظہار کی تازگی مزید نمایاں ہوگی جو قلم مسلسل چلتا رہے، وہ بالآخر اپنی منزل ضرور تلاش کر لیتا ہے۔
مقبول ذکی مقبول کی ادبی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو وہ ایک ایسے سادہ لوح، شائستہ مزاج اور مطالعہ دوست قلم کار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو شہرت کے شور سے زیادہ تخلیق کے سکون کو اہمیت دیتا ہے ان کی شاعری سادہ ہے، نثر جاندار ہے، تبصرہ نگاری مؤثر ہے، انٹرویو نگاری میں دلچسپی ہے اور اہلِ قلم سے ان کے روابط وسیع ہیں ان سب خوبیوں کو یکجا کیا جائے تو مقبول ذکی مقبول کا ادبی سفر ایک ایسے مسافر کی داستان معلوم ہوتا ہے جو راستے کی دشواریوں سے گھبرائے بغیر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
بھکر کا یہ سپوت آج اردو اور سرائیکی ادب کے افق پر اپنی شناخت بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے کوئی مصنوعی ادبی قد نہیں تراشا بلکہ اپنے قلم، مطالعے اور مسلسل محنت کے ذریعے مقام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ادب میں اصل پہچان وقت ہی عطا کرتا ہے اور وقت انہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو اخلاص کے ساتھ لکھتے رہتے ہیں۔
مقبول ذکی مقبول کا ادبی سفر ابھی جاری ہے ان کے سامنے امکانات کی ایک وسیع دنیا ہے دعا ہے کہ ان کا قلم اسی طرح رواں رہے، ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہو، ان کی تخلیقات میں مزید پختگی آئے اور آنے والے وقت میں ان کی مزید کتابیں منظرِ عام پر آ کر اردو اور سرائیکی ادب کے دامن کو مالا مال کریں۔
مقبول ذکی مقبول کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ ادب کی دنیا میں وہ تنہا نہیں ان کے ساتھ ان کا قلم، ان کا مطالعہ، ان کے ادبی رفقا اور ان کے قارئین موجود ہیں یہی رفاقت ان کے سفر کو آگے بڑھا رہی ہے اور یہی سفر آنے والے دنوں میں ان کے ادبی مقام کو مزید مستحکم کرے گا۔
آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت مقبول ذکی مقبول کے علم، قلم اور زندگی میں مزید برکتوں کا نزول فرمائے۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں