ایلون مسک اور دنیا کی ترقی کا اگلا مرحلہ
سنہ 2025ء میں دنیا کے امیر ترین آدمی ایلون مسک نے گزشتہ تمام امراء سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے۔ شائد اس کی بنیادی وجہ ایلون مسک کے جدید نظریات، مصنوعی ذہانت پر یقین اور سائنس و ٹیکنالوجی کے منصوبے ہیں۔ دوسرا وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی کافی قریب ہیں۔
ٹیسلا کا سٹاک اپنے عروج سے 50فیصد تک گرا اور 2024ء کے انتخابات کے بعد 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچا، اور بعد میں 700 بلین ڈالر تک گر گیا۔ اس کے باوجود مسک کو ابھی تک دنیا کی امیر ترین شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ ان کی دولت میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ایلون مسک کی کمپنیوں کے شیئرز کو بیک اپ کرنے کے لیئے کچھ عرصہ پہلے ان کی کمپنی ٹیسلا کی دو گاڑیاں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خریدی تھیں جس کی تقریب وائٹ ہاؤس میں منعقد کروائی گئی تھی۔ اس کا مثبت اثر ان کے کاروبار پر یہ پڑا کہ ان کی کمپنی کے شیئرز کی قیمت دوبارہ اوپر چلی گئی۔
ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک نے اس سے قبل مریخ پر انسانی آبادیاں قائم کرنے کے لیئے انوسٹمنٹ کا اعلان کیا تھا اور ابھی وہ دنیا سے سمارٹ فون کو ختم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ دونوں منصوبے انسانی تہذیب کو ایک نئی دنیا میں داخل کرنے کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایلون مسک کا چار سالوں میں انسان کو مریخ پر پہچانے جبکہ 15 سالوں میں 10 لاکھ انسان مستقل طور پر وہاں آباد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگلے چار سالوں میں انسانوں کو مریخ پر پہنچا دیا جائے گا، اور ان کے مطابق اس سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان ایک سیارے سے نکل کر دوسرے سیارے پر اپنی نئی اور جدید تہذیب کا آغاز کرے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے سینیٹر ٹیڈ کروز اور بین فرگوسن کے ساتھ ورڈکٹ ود ٹیڈ کروز پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے کہا تھا، "سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے مریخ پر ایک آزاد شہر تعمیر کیا جائے۔”
ایلون مسک نے مزید کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد صرف 15 سال اور درکار ہوں گے تاکہ مریخ کو ایک ایسی جگہ اور شہر میں بدلا جا سکے جہاں 10 لاکھ لوگ مستقل طور پر رہ سکیں۔ مسک کے الفاظ تھے کہ، "مجھے لگتا ہے کہ میرا یہ منصوبہ زیادہ سے زیادہ 20 سال میں ممکن ہو سکتا ہے۔”
مسک کے جدید نظریات کے مطابق جب یہ شہر اس قابل ہو جائے کہ زمین سے سپلائی خلائی جہازوں کے بغیر بھی ممکن بنا دی جائے، تو دنیا میں خوشحالی آئے گی اور انسان مزید آگے بڑھ سکے گا۔” ایلون مسک کا ماننا ہے کہ اگر زمین پر کچھ ہو جاتا ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ تیسری عالمی جنگ ہو، زندگی کسی دھماکے یا دھیرے دھیرے زوال کے ساتھ بھی ختم ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، مریخ پر زندگی کو خودکفیل بننے کی ضرورت ہے جس سے انسانی تہذیب کے زندہ رہنے کا امکان کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔”
ایلون مسک کہتے ہیں کہ ہم اس وقت زمین پر صنعت کے ایک بڑے اہرام کے اوپر کھڑے ہیں۔ یہ سب کچھ مختلف معدنیات کے وسیع پیمانے پر کان کنی سے شروع ہوتا ہے، جسے ہم کئی مراحل سے گزار کر بہتر بناتے ہیں۔ ہم خوراک اگاتے ہیں، درخت اگاتے ہیں، درختوں سے چیزیں بناتے ہیں، اور یہ سب کچھ مریخ پر بھی بنانا ہو گا۔”
لیکن مریخ ایک ایلین انسان دشمن ماحول رکھتا ہے۔ گرمیوں میں خط استوا کے قریب کسی گرم دن درجہ حرارت صفر ڈگری سے اوپر جا سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر وہاں بہت سردی ہوتی ہے۔
کیا مریخ پر انسانوں کی آبادیاں ایک دن قائم ہو جائیں گی، مریخ پر موجود لوگ زمین کو دیکھ پائیں گے جو ان کا پہلے ایک آبائی گھر تھا؟
کیا آپ سمجھتے ہیں ایلون مسک اپنے اس مشن میں کامیاب ہو جائیں گے؟ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب نہ بھی ہوں تو انہوں نے ایک ایسے منصوبے کو تشکیل دیا ہے جس کی تکمیل ہماری آئیندہ آنے والی نسلیں کر سکتی ہیں۔
جبکہ دنیا سے اسمارٹ فون کے خاتمہ سے مراد جدید ٹیکنالوجی جس کے ذریعے دور دراز کے انسان ایک دوسرے سے دماغی چپس وغیرہ کے ذریعے براہ راست کمیونیکیشن کر سکیں گے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہو گی جس میں پہننے والی ٹیکنالوجی اور دماغی انٹرفیسز کا غلبہ ہو گا۔ دنیا کے چار بڑے ٹاپ ویژنری ایلون مسک، بل گیٹس، مارک زکربرگ اور سیم آلٹمین اسمارٹ فون کے دور کے خاتمے کا اشارہ دے رہے ہیں۔
ان چاروں شخصیات کی پیش بینی کے مطابق اب ایک ایسی دنیا قائم ہو گی جس میں انسان ایک نئی اور جدید ترین تہذیب میں داخل ہو گا جس میں انسان پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہو گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج کے دور میں کسی انسان کے نظریات جتنے زیادہ جدید اور ترقی یافتہ ہوں گے وہ زندگی میں اتنا ہی زیادہ کامیاب ہو سکے گا۔
ایلون مسک اپنی کمپنی نیورولنک کے ذریعے برین کمپیوٹر انٹرفیس بنا کر اسمارٹ فونز کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایپل کا نیا آئی فون ایسا اسمارٹ فون ہو گا جسے اب تک کسی نے نہیں دیکھا ہے۔ دنیا کا سب سے پتلا اسمارٹ فون کونسے فیچرز سے لیس ہو گا؟ منفرد جیکٹ جو سولر پاور کی مدد سے آپ کے اسمارٹ فون کو چارج کرے گی۔ یہ ٹیکنالوجی صارفین کو صرف اپنے خیالات کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کی اجازت دے گی جس میں نہ کوئی اسکرین ہو گی نہ انگلیوں کا استعمال ہو گا اور نہ ہی کوئی جسمانی ان پٹ ہو گا۔
اب تک دو انسان اس سبجیکٹ کو پہلے ہی اپنے دماغ میں امپلانٹ کروا چکے ہیں جس سے اس تصور کی ابتدائی فزیبلٹی ظاہر ہوتی ہے۔
بل گیٹس کیئوٹک مون اور اس کے الیکٹرانک ٹیٹوز کی حمایت کرتے ہوئے ایک مختلف سمت تلاش کر رہے ہیں، جو نینو سینسر سے بھرے ٹیٹو ڈیٹا اکٹھا کرنے، بھیجنے اور وصول کرنے کے قابل ہیں۔ ان کی ممکنہ حدود صحت کی نگرانی سے لے کر جی پی ایس سے باخبر رہنے اور مواصلات کو انسانی جسم ہی کے ذریعے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔
اب سوال صرف یہ نہیں ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا انسانی معاشرہ ان جرات مندانہ نئے ٹولز کو اپنی مرضی سے اپنائے گا، یا آنے والے برسوں تک اسمارٹ فون ہی کو ترجیح دے گا؟
آپ کو یاد ہو گا کہ مائیکرو سافٹ کی طرف سے نوکیا کی خریداری کا اعلان کرنے کے لئے پریس کانفرنس کے دوران، نوکیا کے سی ای او سٹیو پلمر نے اپنی تقریر یہ کہہ کر ختم کی تھی کہ، "ہم نے کچھ غلط نہیں کیا، لیکن کسی نہ کسی طرح ہم ہار گئے۔”
جب اس نے یہ کہا تھا تو خود سمیت نوکیا کی پوری انتظامیہ رو پڑی تھی۔ نوکیا ایک معزز کمپنی تھی۔ اس نے اپنے اعمال سے کچھ غلط نہیں کیا تھا لیکن دنیا بہت تیزی سے بدل گئی تھی اور وہ سیکھنے سے محروم ہو گئے تھے اور یوں وہ تبدیلی سے محروم ہو گئے تھے۔ ہم عام انسانوں کے لیئے بھی یہ بات بڑی سبق آموز ہے کہ جو لوگ وقت کے ساتھ نہیں چلتے ہیں یا ایک قیمتی موقع کھو دیتے وہ نوکیا کی طرح بڑا نام پیدا کرنے یا اس پر قائم رہنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ وہ چاہے ایلون مسک ہو یا ہم غریب اور متوسط طبقے کے عام لوگ ہوں وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھ کر ترقی کرنے اور امیر بننے کا موقع ضائع کر دیتے ہیں۔
جو انسان صرف بڑی رقم کمانے کا موقع گنوا دیتا ہے وہ پرآسائش طور پر زندہ رہنے کا موقع بھی کھو دیتا ہے۔ اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرتے ہیں، تو آپ کو مقابلے سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نئی چیزوں کو نہیں سیکھنا چاہتے اور آپ کے خیالات اور ذہنیت وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی تو وہ وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ انسان تب تک کامیاب رہتا ہے جب تک وہ سیکھتا ہے اگر اسے لگتا ہے کہ اس نے سب کچھ سیکھ لیا ہے تو سمجھو اس نے اپنے آپ کو خود ہی ناکام کر لیا ہے۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے انسانوں کو دیگر سیاروں کا باسی بنانے کا عزم ظاہر کر کے انسان کو ایک نئی جست فراہم کی ہے۔
چین کے ایک جریدے کے لئے تحریر کئے گئے ایک مضمون میں بھی ایلون مسک نے کہا کہ انسانی تہذیب کو دیگر سیاروں تک جانے کے قابل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر زمین رہائش کے قابل نہ رہے تو ہمیں ایک خلائی طیارے سے نئے گھر کی جانب پرواز کرنا ہو گا’۔
ایلون مسک کی نظر میں انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ ایلون مسک کا یہ ایک اور حیرت انگیز منصوبہ ہے۔ ایلون مسک نے مزید لکھا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے پہلا قدم خلائی سفر کے اخراجات کو کم کرنا ہے اور اسی کے لئے انہوں نے اسپیس ایکس کی بنیاد رکھی۔
دنیا کے امیر ترین شخص مسک کا کہنا تھا کہ وہ انسانی تہذیب کو بجھتی ہوئی شمع کی طرح دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اپنی بقا کے لئے دیگر سیاروں کا رخ کرنے کی ضرورت ہے۔
ایلون مسک نے اپنے مضمون میں کہا کہ ان کی انسانوں کے لئے سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ وہ مریخ میں ایک مستحکم شہر کو تعمیر کر سکیں۔
ایلون مسک برسوں سے مریخ میں انسانوں کے بسانے کے منصوبوں کی بات کرتے آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ کم از کم ایک ہزار اسٹار شپس تیار کر کے اس شہر کو تعمیر کرنے کے لیئے وہاں بھیجنا چاہتے ہیں۔
یہ مضمون چینی زبان میں تحریر کیا گیا تھا اور ایلون مسک کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ اسپیس ایکس کے بانی نے اسے لکھا تھا۔ انہوں نے مضمون میں "ہم خیال چینی شراکت داروں” کو مستقبل میں خلائی کھوج کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی تھی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |