مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے
غزل
اب چھوڑ دو یہ جان کا جنجال دوستو
یہ خاک میرے دیس کی ہے کیمیا مجھے
ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح
بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے
کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی
رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی