ہوم ورک اور قبل تجربی کاروبار
جس کاروبار نے بڑے لیول پر کامیاب ہونا ہو وہ اپنے آغاز میں خود پر کیئے گئے ہوم ورک ہی سے نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نئے کاروبار کے ناکام ہونے کا تناسب اسی فیصد تک ہے، جو اپنی ابتداء ہی میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم کاروبار کو پوری تیاری اور تحقیق کے بغیر شروع کرتے ہیں۔ آپ کامیاب کاروباری گروپس، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور امیر ترین کاروباری افراد کی تاریخ کو پڑھ کر دیکھ لیں ان میں اکثر نے نچلی سطح سے اوپر اٹھ کر کامیابی حاصل کی۔ چھوٹی کمپنیاں اپنی لیڈرشپ، تجربے اور مخلص اسٹاف کی وجہ سے ترقی کرتی ہیں جبکہ کسی کمپنی میں کام کرنے والا ایک عام ورکر اپنا کاروبار شروع کرتا ہے تو وہ ترقی کرتے کرتے اپنی مدر کمپنی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی کامیابی کے لیئے مزدور کے طور پر تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے لیئے اندر ہی اندر خود کو تیار بھی کرتا رہتا ہے۔
ایک کامیاب کاروبار کی مثال ایک ماہر تعمیرات انجنیئر یا آرکیٹیکچر (Architecture) کی سی ہے جو پتھر، سیمنٹ، لوہے اور لکڑی وغیرہ کی حقیقی عمارت کھڑی کرنے سے پہلے وہ اس عمارت کو قبل تجربی کے انداز میں اپنے دماغ میں کھڑا کرتا ہے۔ کسی عمارت کا نقشہ دراصل وہ خاکہ یا آوٹ لائنز (Out Lines) ہوتی ہیں جو عمارت تعمیر کرنے سے پہلے اس مجوزہ انجینئر کے دماغ میں پیدا ہوتی ہیں کہ زیر نظر عمارت کی کتنی اونچائی کتنے کمرے، کتنی کھڑکیاں اور کتنے کوریڈورز وغیرہ ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ اسی طرح ایک ممکنہ کامیاب کاروبار بھی کسی کاروبار کے مالک یا پائنیر کی تخلیق کا نتیجہ ہوتا ہے، جس نے اس کاروبار سے متعلقہ مارکیٹ، مقابلے، افرادی قوت، حتی کے اس کاروبار کے ہر شعبے اور کامیابی و ناکامی کے حتی المقدور تمام امکانات پر پوری تیاری کر رکھی ہوتی ہے۔
جیسے انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ:
"Well Begun Is Half Done”
جس کا مطلب ہے کہ اچھے طریقے سے شروع کیا گیا کام یا کاروبار اپنے آغاز کے ساتھ ہی آدھا مکمل ہو جاتا ہے اسی طرح کاروبار کا اچھا آغاز کیا جائے یعنی پوری تیاری اور "ہوم ورک” کے بعد کاروبار کو شروع کیا جائے تو اس کی کامیابی کے 50 فیصد امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
میرے خیال میں تو کاروبار کی کامیابی کا سارا انحصار ہی فقط اس پر کیئے گئے ہوم ورک پر ہے جس کے دوران آپ کاروبار کے ناکام ہونے کے تقریبا سارے امکانات کا قبل از وقت جائزہ لے کر ان کا تدارک کر لیتے ہیں یعنی ناکامی کے تمام سوراخ (Loop Holes) آپ پہلے ہی بند کر لیتے ہیں۔ لھذا ہمارے نئے کاروبار کی 80 فیصد ناکامی کا یہی کارن ہوتا ہے کہ ہم نئے کاروبار پر ذہنی یا معلوماتی کام کیئے بغیر اس کا آغاز کرتے ہیں جو عموما ابتداء ہی میں ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ بعض نیا کاروبار شروع کرنے والے تو کاروبار کے ہوم ورک میں اتنے کورے ہوتے ہیں، یا اتنی جلد بازی سے کاروبار شروع کرتے ہیں کہ آغاز ہی میں ان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں جن کا بعد میں ازالہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جلدی میں ہمارا دماغ کام نہیں کرتا، جیسا کہ انگریزی کا محاورہ ہے کہ Hurry Creates Worry یا کچھ افراد وافر پیسے اور کاروبار کے شوق میں آ کر کاروبار تو شروع کر لیتے ہیں مگر انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ کونسا کاروبار کرنا ہے یا اس کی ابتداء کیسی تیاری اور کس دھماکے کے ساتھ کرنی ہے کہ ان کے کاروبار کی شروع ہی میں دھاک بیٹھ جائے۔
جرمن فلسفی امانوئل کانٹ کی علم انسانی کے بارے ایک اصطلاح "قبل تجربی” ہے جس کا مطلب وہ علم ہے جو بدیہی طور پر حاصل ہوتا ہے اور جسے تجربے سے گزارنے سے پہلے ہی ہم اپنے تخیل اور مشاہدے کے زور پر حاصل کر لیتے ہیں۔ کاروبار میں "بدیہی علم” حقیقی اور تجرباتی علم سے زیادہ طاقت رکھتا ہے کیونکہ کاروبار میں اس کا کلی تعلق نفع اور نقصان کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اگر آپ کاروبار بغیر کسی ریسرچ اور ہوم ورک کے شروع کر دیتے ہیں تو اس کی مثال اندھیرے میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے کہ جس کے مثبت اور منفی نتائج آپ کے اختیار سے باہر نکل جاتے ہیں۔
اس کی ایک اور سادہ اور عام فہم مثال افلاطون کے اس واقعہ سے بھی دی جا سکتی ہے کہ جس کے مطابق ایک دفعہ وہ اپنی کلاس کے ایک شاگرد کو پانی کا ایک مٹکا بھر کر لانے کو کہتے ہیں مگر اسے واپس بلا کر ایک تھپڑ رسید کرتے ہیں کہ پانی کا مٹکا گرا کر توڑنا نہیں ہے۔ اس پر شاگرد حیران ہو کر کہتا ہے کہ، "مٹکا تو میں نے ابھی توڑا ہی نہیں ہے مگر مجھے یہ تھپڑ کیوں مارا گیا ہے تو افلاطون کہتا ہے، "مٹکا ٹوٹنے کے بعد تھپڑ مارا تو اس کا کیا فائدہ ہو گا، تم جاو پانی احتیاط سے بھر کر لانا۔”
میں متحدہ عرب امارات دبئی میں رہتا ہوں اور کاروباری مشورے دینا میرا پیشہ ہے۔ نیا کاروبار شروع کرنے کے بارے اکثر لوگ مجھ سے معلومات لیتے رہتے ہیں اور بعض اوقات "انوسٹمنٹ” بھی بھیج دیتے ہیں مگر میں نے اکثر نوٹ کیاہے کہ وہ نیا کاروبار شروع کرنے کے لیئے ہوم ورک نہیں کرتے یا ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔ کاروباری کامیابی کانٹ یا افلاطون کا کوئی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے کہ جسے سمجھا نہ جا سکے۔دبئی میں کامیاب کاروبار زیادہ تر کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ چلا رہے ہیں۔ دبئی میٹروپولیٹن سٹی ہے یہاں کامیابی کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔کاروبار پورے اعتماد، تیاری اور ہوم ورک کر کے شروع کریں، بے شک آپ کے پاس اس کا تجربہ نہیں بھی ہے تو آپ پھر بھی ضرور کامیاب ہوں گے اور بڑی سطح پر ہوں گے۔ اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔
Title Image by Rahul Pandit from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |