Blog

  • آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار 

    غزل کی تعریف:

    غزل اردو ادب کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔اردو کے قریب قریب سبھی شعرا نے اس صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔لیکن اس صنف نے تمام شعرا کو قبول نہ کر کے اپنی سنگ دلی کا ثبوت دیا۔اگر ہم لغوی اعتبار سے غزل کو دیکھیں تو شان الحق حقی کے مطابق غزل پیار محبت کے بو ل، اظہار ،محبت ،عاشقانہ گفتگو، عشقیہ کلام ہے۔ نظم کی ایک صنف جو ایک ہی زمین میں متفرق اشعار پر مشتمل ہوتی ہے جس میں معنوی ربط ضروری نہیں ۔علمی اُردو لغت کے مولف وارث سرہندی غزل کے معنی یوں بتاتے ہیں: 

    ’’عورتوں سے باتیں کرنا، عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنا، نظم کی ایک صنف جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے ، پہلا شعر مطلع اور آخری مقطع کہلاتا ہے۔‘‘  ۱

    مصباح اللغات کے بہ موجب غزل کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے: 

    ـ’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یاعورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں۔ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو درد ناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اس نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اس میں دردو سوز بہت نمایاں ہو۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیںجن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ ہر شعر اپنا اپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘۲

    حامد حسن قادری غزل کی تعریف اِن الفاظ میں کرتے ہیں :

    ’’غزل کے معنی ہیں عشق و جوانی کا ذکر کرنا شاعری میں غزل اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں حُسن و عشق ، اَخلاق و تصوف وغیرہ مختلف مضامین ہوں اور ہر شعر الگ مضمون کا ہو۔‘‘۳

    درجہ بالا تعریفوں کی روشنی میں جب ہم غزل کو دیکھتے ہیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ ایسی نظم جس میں عورتوں سے متعلق بیان ہو اور عشق کی باتیں ہوں غزل کہلائے گی۔ غزل کی یہ تعریف کافی نہیں معلوم ہوتی ہے۔موجودہ دور میں غزل اس تعریف سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہے۔ آج کی غزل میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں۔ معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ہر اعتبار سے غزل کے اشعار موجود ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ لغات کے بعد اب ذرا اصناف ادب میں غزل کی تعریف کو دیکھتے ہیں۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں:

    ’’غزل کے لغوی معنی عورتوں یا عورتوں کے متعلق گفتگو کرنا ہیں ۔ ہرن کے منہ سے بہ وقت خوف جو دردناک چیخ نکلتی ہے اسے بھی غزل کہتے ہیں ۔اسی نسبت سے غزل وہ صنف شعر ہے جس میں حسن و عشق کی مختلف کیفیات کا بیان ہو اور اُس میں درد و سوز بہت نمایاں ہو ۔اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ادا ہوتا ہے ۔ہرشعر اپنااپنا الگ مفہوم دیتا ہے ۔‘‘ ۴

    غزل کی اس تعریف کی روشنی میں پتا چلتا ہے کہ غزل ایک ایسی صنف نظم ہے جس میں بحر ایک ہی رکھی جاتی ہے ۔ اس میں عموماً قافیہ اور ردیف موجود ہوتا ہے لیکن غیر مردف غزلیں بھی شعر ا کے ہاں ملتی ہیں۔ مطلعے ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہے ۔ مقطع کے بغیر بھی غزلیں کہی جاسکتی ہے۔ ابتداسے لے کر تاحال غزل کے اندر تغیر و تبدل نظرآتا ہے لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو ہمیں ولیؔ، میرؔ، سوداؔ، ذوقؔ ، غالب ؔاورداغؔ وغیرہ کے ہاں نظر آتا ہے۔ ہر اس علاقے میں جہاں اُردو ادب نے نمو پائی وہاں غزل کہنے والے موجود رہے ۔ خطۂ کشمیر میں اُردو ادب کی ابتدا کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی روزِ اول سے اس صنف میں طبع آزمائی کی گئی بالخصوص آزادکشمیر میں اُردو غزل نے جو ترقی حاصل کی وہ یقینی طور پر اُردو ادب کے خزانے میں بیش بہا اضافہ ہے۔

    آزاد کشمیر میں اردو غزل کی روایت

    آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت

    آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت بیان کرنے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں اُردو زبان و ادب کا آغاز کب ہوا؟ اُردو زبان جب دکن اور گجرات میں پھل پھول رہی تھی تو اسی دوران میں شیخ غلام محی الدین نے مثنوی گلزار فقر رقم کرکے یہاں ادب کا بیج ڈالا ، حافظ محمو د شیرانی کے مطابق:

    ’’گجرات و دکن میں اگرچہ اُردو تالیفات دسویں صدی ہجری سے شرو ع ہوجاتی ہیں ۔لیکن شمالی ہندوستان میں دوصدی بعد تک ان کا پتا نہیں ملتا۔ دہلی میں ابھی اُردو دبستان قائم نہیں ہوچکتاکہ پنجاب میں لوگ اُردو زبان میں مثنوی لکھنی شروع کردیتے ہیں ۔ میرپور (کشمیر ) کے شیخ غلام محی الدین مثنوی گلزا ر فقر۱۱۳۱ہجری میں ختم کردیتے ہیں۔‘‘۵

    میرپور آزادکشمیر کا ایک بڑا علمی وادبی مرکز ہے۔ اس خِطے سے اُردو شاعری کا آغاز گلزا ر فقر (۱۷۱۷ء)کی صورت میں ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس خطے سے اُردو کی شمع روشن ہوئی۔ کشمیر میں اُردو زبان کے حوالے سے پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں کہ ۳۰،۲۹ستمبر۱۹۴۴ء کو نیشنل کانفرنس کا سالانہ اجلاس سوپور میں منعقدکیا گیا جس میں تمام شرکااور مندوبین نے اردو اورکشمیری کو نیشنل کانفرنس کا آئندہ نصب العین قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر منظور کرلیا کہ:

    ’’ریاست کی قومی زبانیں کشمیری ،ڈوگری ، بلتی (پالی)دری ، پنجابی ، ہندی اور اُردو ہوں گی۔ اُردو کو ساری ریاست کی مرکزی قومی زبان کی حیثیت حاصل ہوگی۔‘‘۶

    اس اقتباس کی روشنی میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مہاراجا کشمیر نے تقسیم سے قبل ہی یہاں اُردو کو مرکزی زبان کا درجہ دے دیا۔ اب اس تناظر میں بھی یہاں اُردو ادب کی ترویج و ترقی اچنبھے کی بات نہیں ۔ خطے میں اُردو کی ترقی وترویج کی تاریخ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہندوستان اور پنجا ب کے مختلف علاقوں سے جب لوگ یہاں ملازمت و سیاحت کی غرض سے آنے لگے تو وہ اپنے ساتھ وہاں سے اُردو زبان بھی لائے مقامی زبانوں کے میل ملاپ نے اُردو کو یہاں مزید ثروت مند بنادیا ۔ مواصلات میں بہتری آئی اور اُردو ادب کے فروغ میں یہ چیز نہایت مفید ثابت ہوئی۔ اس حوالے سے کشمیر میں اُردو کے مصنف حبیب کیفوی لکھتے ہیں:

    ’’ریاست کو پڑھے لکھے لوگوں اور ہنرمندوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہندوستان اور پنجاب سے لوگ کشمیر میں آنے لگے ۔ حکومت نے اپنے مفاد کے لیے ان لوگوں کو ملازمتیں دیں اور اچھے اچھے عہدوں پر فائز کیا۔ یہ لوگ اپنی زبان اُردو بھی ساتھ لائے اور مقامی لوگوں کے میل ملاپ سے کشمیر میں اُردو کی سبیل نکل آئی۔‘‘۷

    آزادکشمیر میں اُردو کے حوالے سے یہ اقدامات آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ روزگار اور سیاحت کی غرَ ض سے یہاں آتے ہیں تو مقامی زبان کی بہ جائے اُردو ہی کو رابطے کی زبان بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست جموںوکشمیر کے ہر گھراور ہراِدارے کے ساتھ ساتھ کوچہ و بازار میں بھی اُردوہی نظرآتی ہے ۔اُردو یہاں کی مقامی بولیوں پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ نوجوان نسل اُردو تو بہ خوبی جانتی ہے لیکن علاقائی بولیوں کو بھولتی چلی جارہی ہے ۔ ایسے ماحول میں اُردو ادب نے خوب ترقی کی اور بالخصوص اُردو غزل نے جو ترقی کی راہیں طے کیں وہ قبل اس کے نہیں کرسکی۔

    یوں تو تمام آزادکشمیر میں اُردو زبان و ادب نے نمو پائی اور ہر طرح کا ادب تخلیق ہوا۔ لیکن ادب کی ترقی و ترویج میں دو بڑے مراکز مظفرآباد اور میرپور کہلائے۔ مظفرآباد آزاد کشمیر کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ایک بڑا دبی مرکز کہلاتا ہے۔ اس علاقے میں اُردو کے نام و ر ادبا اور شعرا نے جنم لیا جو نہ صرف ملکی بل کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اُردو کے حوالے سے اہم مقام رکھتے ہیں ۔ مظفرآباد، سری نگر اور اسلام آباد سے قریب ہونے کی وجہ سے بھی یہاں ادبا آتے رہے۔ بہ سلسلہ ٔملازمت بھی آزاد کشمیر کے دوافتادہ دیہات اور چھوٹے اضلاع کے لوگوں نے یہاں کا رُخ کیاجس کے باعث مظفرآباد نے باقاعدہ ایک دبستان کی سی حیثیت اختیار کرلی ۔ یہاں نظم، غزل، مرثیہ، رباعی، افسانہ ، ڈراما اور دیگر اصناف ادب میں طبع آزمائی کرنے والے کئی لوگ اعلیٰ ادبی مقام کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر صابرؔ آفاقی ، ڈاکٹر افتخارؔ مغل، الطافؔ قریشی، زاؔہد کلیم، آزرؔ عسکری، محمد خان نشترؔ ، سیدہ آمنہ ؔبہار ، مخلص وجدانیؔ ، ڈاکٹر ندیمؔ بخاری ،احمد عطاؔ اللہ ،اعجازؔنعمانی، ایم یامینؔاورواحدؔ اعجاز میرسمیت بے شمار لکھنے والوں نے اسی ضلع کی نمائندگی کی ۔ ضلع میرپور میں اگر دیکھیں تو وہاں مظفرآباد کی نسبت ادبی ماحول مدہم ہے لیکن میرپور چوں کہ ایک بڑا شہر ہے پنجاب کے اہم شہروں جہلم اور گجرات سے قریب تر ہے۔ جہلم اور گجرا ت کے اکثر شعرا اور ادیب بھی میرپور کے دبستان سے متعارف ہوئے ۔ میرپور میں ادبی سرگرمیاں بھی بڑھ چڑھ کر ہوتی رہیںجو تاحال جاری ہیں یہاں کے اہم لکھنے والوں میں پروفیسر رفیقؔ بھٹی، پروفیسر صغیرؔ آسی ، نصیر اؔحمد ناصر، احمد شمیمؔ ، زیدؔ اللہ فہیم، پروفیسر نذیرؔ انجم ،مشتاق ؔشاد،اکرم ؔطاہر،ذوالفقار علی اسدؔاور عابد محمود عابدؔ وغیرہ چند نام ہیں اس کے علاوہ نئے لکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ 

    ان دواضلاع کے علاوہ اب دیگر چھوٹے اضلاع میں بھی اُردو غزل کہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی جو اہل زبان ہونے کے ساتھ ساتھ علم عروض پر بھی دستر س رکھتے تھے۔ آپ نے آزادکشمیر کے ضلع سدھنوتی کے شہر پلندری میں اپنے قیام کے دوران میںعلامہ اقبالؔ کے فارسی کلام کا منظوم اُردو ترجمہ کرکے جہاں ایک بڑا کام کیا وہیں آپ نے اس علاقے کے نوجوانوں کے لیے اپنی خدمات و قف کردیں ۔ عبدالعلیمؔ صدیقی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج اس علاقے میں باقاعدہ ادبی نشست ہر پندرہ دن بعد منعقد ہوتی ہے۔اس علاقے میں باقاعدگی سے مشاعرے بھی انعقاد پذیر ہورہے ہیںجن میں پاکستان اور آزادکشمیر بھر سے شعرا حضرات مدعو کیے جاتے ہیں ۔ پلندری کے شعرا میں ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ ایک اہم نام ہے جنھوں نے حقیقی معنوں میں پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کا جاں نشین ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ڈاکٹر ماجدؔ علم ِ عروض پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ فنِ شعر سے بھی آشنا ہیں۔ علاوہ ازیںجمیل اختر جمیلؔ ، آصفؔ اسحاق، ضیا الرحمن ضیاؔ، جاوید الحسن جاویدؔاور صداقت طاہرؔ اس ضلع کے اہم غزل گو ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بھی علم و ادب کی محافل باقاعدہ انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔ باغ میں بھی غزل کے حوالے سے کئی اہم نام دکھائی دیتے ہیںجو اُردو غزل میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔اسلم ؔراجا، پروفیسر شفیق راجا ، زبیر حسن زبیریؔ، سید شہبازؔ گردیزی ،احمد فرہادؔ،عبدالحق مرادؔ،سید علی شاہ باغ کے معروف شعر امیں شمار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں اگر اُردو غزل کہنے والوں کی تعداد دیکھی جائے تو بہت کم ہے عباس پور سے جاوید سحرؔ، راولاکوٹ سے لیاقت ؔشعلان، شوزیب ؔکا شر ،فاروق صابرؔاورڈاکٹر کبیرخان وغیرہ اہم لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ ضلع نیلم سے احمد وقار ؔ ، عبدالبصیر تاجوؔر اور لطیف ؔآفاقی نے غزل گوئی میں نام کمایا ہے۔

    آزادکشمیر کی غزل میں جہاں جدت دکھائی دیتی ہے وہیں یہ روایت کی پاس دار اور امین بھی ہے۔ یہاں کے شعرا کے ہاں موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر کئی طرح کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ آزادکشمیر میں اُردو غزل کی روایت کو جانچتے ہوئے ذیل میں چند شعرا کا تعارف اور ان کے کلام کی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا جس سے یہاں اُردو غزل کی روایت کو سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

    آزادکشمیر کے غزل گو شعرا:

    آزرؔ عسکری(اپریل ۱۹۱۴ء تا ۶ مارچ ۱۹۸۳ء ) سکردو ، گلگت بلتستان میں پیدا ہوئے آپ قادر الکلام شاعر تھے۔ آزرؔ عسکری ابتدائی تعلیم سکردو اور بعدازں سری نگرسے حاصل کرنے کے بعد فارسی اور اُردو میں فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ ۱۹۳۲ء  میں شاعری کا آغاز کیا پروفیسرصغیرؔ آسی کے مطابق:

    ’’آپ نے اُردو شاعری کی ابتدا۱۹۳۲ء میں کی اور کلام کی اصلاح ابوالاثر ،حفیظ ؔجالندھری سے لیتے رہے ۔‘‘۸

    آزرؔ عسکری نے اُردو کے علاوہ پنجابی ، کشمیری اور فارسی میں شاعری کی ۔آپ غزل کے ساتھ ساتھ نظم کے بھی شاعر تھے ۔ آزرؔ عسکری کا بیشتر کلام مزاح پر مبنی ہے۔ "کشت زعفران "کے نام سے ۱۹۷۶ء میں شعری مجموعہ منظر عام پر آیا ۔ مظفرآباد میں وفات پانے والے آزرؔ عسکری کے بیٹے ابراہیمؔ گل بھی پر تاثیر شاعر ہیں۔ آزرؔ عسکری کے کلام سے بہ طور نمونہ چند شعر ملاحظہ ہوں:۔

    دیے جس نے دستِ دعا اور دے گا     

    تجھے جس نے اب تک دیا اور دے گا     

    نہ کر غم تو امروز وفردا کا آزرؔ     

    خدا اور دے گا خدا اور دے گا ۹

    ڈھونڈتے پھرتے ہیں پروانے ضیائے شمع کو

    شمع کو بھی یورشِ پروانہ سے فرصت نہیں ۱۰

    عبدالغنی غنیؔ(۱۸ جون۱۹۱۴ء )آزادکشمیر کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ضلع پونچھ میں آنکھ کھولنے والے عبدالغنی نے ابتدائی تعلیم پونچھ کے اسلامیہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔نویں جماعت میں شعر کہنا شروع کیا۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ میٹرک کے بعد حکومت ِآزاد جموںوکشمیر میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا 1۱۹۵۵ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے بی ۔اے پاس کرنے کے بعد۱۹۵۷ء میں اسی ادارے سے صحافت کا ڈپلوما حاصل کرلیا۔ جگرؔ مراد آبادی اور فیض احمد فیضؔ کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزا ز بھی حاصل رہا ۔ مظفرآباد میں حلقہ اربابِ ذوق قائم کروانے میں پیش پیش رہے ۔ آزاد کشمیر میں اُردو زبان و ادب کی ترقی کے حوالے سے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔۱۹۶۳ء میں عبدالغنی غنیؔ کو انجمن ترقیٔ اُردو کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ اس پلیٹ فارم سے علمی و ادبی سرگرمیاں باقاعدگی سے انعقاد پذیرکروانے کے علاوہ آپ نے ۱۹۴۴ء میں آزادکشمیر میں اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے میں اہم کردار اداکیا ۔آپ کی دعوت پر ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا ماہر القادری، آغاشورش کاشمیری،استاد قمر جلالوی جیسی نابغہ روزگار شخصیات نے آزاد کشمیر میں قدم رکھا ۔ "ذار ذار”اور "فکر و فن "کے نام سے شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔عبدالغنی غنی ؔکے کلام سے چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔

    نہ پوچھ اس بت توبہ شکن کے کیا ارادے ہیں

    یہ دیکھو عاشقِ دار و رسن کے کیا اردے ہیں  ۱۱

    یہ فصلِ گل ،یہ چاندنی راتیں ،یہ بے کسی    

    اب نغمۂ فرا ق نہ گاؤں تو کیا کروں ۱۲

    غنیؔ سرمستیاں اپنی گزری ہیں گراں ان کو     

    وہ کیا جانیں مرے دیوانے پن کے کیا ارادے ہیں  ۱۳

    جب کوئی لطفِ زندگی نہ رہا       

    زندگی بسر ہوئی نہ ہوئی ۱۴

    آپ بالائے بام آ جائیں        

    ہم کو تابِ نظر ہوئی نہ ہوئی  ۱۵

    پروفیسر نذیر انجمؔ (۱ جنوری ۱۹۴۶ء تا۲۰۱۲ء )کا شمار بھی آزاد کشمیر کے نمائندہ شعرا کی فہرست میں ہوتا ہے۔ میرپور کے قصبے اکال گڑھ میں آنکھ کھولی۔ابتدائی تعلیم اسی قصبے سے حاصل کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ اور بی اے  گورنمنٹ کالج میرپور سے کیا۔ جامعۂ پنجاب،لاہور سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز بحیثیت لیکچرار کیا۔ کئی کالجز میں فرائض منصبی سرانجام دینے کے بعد آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی تک پہنچے جہاں سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ آزادکشمیر میں شعری ادب کے حوالے سے نذیرؔ انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ نمودو نمائش کے قائل نہیں گوشہ نشینی کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ پروفیسر صغیر آسیؔ لکھتے ہیں:

    ’’طبیعت میں سادگی ،مزاج میں بے تکلفی اورکردار میں بے باکی، جسمانی اعتبار سے دبلے مگر فکری لحاظ سے عمومی سطح سے بلند اور عمیق تر، ارادے میں چٹان کی طرح پختہ اور قول و فعل میں یک رنگ ، بہت کم شاعروں میں ایسی خوبیاں یک جا ملتی ہیں۔‘‘ ۱۶

    رانا غلام سرور سے مقالہ نگار نے جب پروفیسر نذیرؔ انجم کے بارے میں بات کی تو انھوں نے یوں اپنے تاثرات بیان کیے:

    ’’نذیر انجم یک زندہ دل شخصیت کے مالک تھے ۔نہایت اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے تھے۔صبح سویرے گھر سے نکل آتے اور اپنے چاہنے والوں سے مل کر خوشی محسوس کرتے۔میرپور کے چوک شہیداں میں واقع ارشد بک ڈپو پر اکثر بیٹھا کرتے اور کتابوں کا جائزہ لیتے رہتے۔‘‘ ۱۷

    نذیر اؔنجم کی شاعری ایک ایسے معاشرے کی عکاس ہے جس ظلم و جبر کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ آپ کا ایک حرف جذبہ حب الوطنی کا غماز ہے۔ نذیرؔ انجم کا یہ شعر اتنا معروف ہوا کہ کشمیر کے بچے بچے کی زبان پر آگیا ۔

    نعرہ ہی نہیں ایمان ہے، یہ آزادی کے متوالوں کا

     کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۴۱)

    نذیر انجم کی شاعری میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پر توبہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کے کئی ایک اشعار کشمیر میں روز مرہ محاورے کا درجہ رکھتے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ظلم کو امن ،عداوت کو وفا کہتے ہیں

    کیسے نادان ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۵۹)

    میرے کشمیر ذرا جاگ کہ کچھ جاہ طلب 

    غیر کو تیرے مقدر کا خدا کہتے ہیں (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۹۰)

    کشمیر میں شعری ادب کے افق پر نذیرؔ انجم بیس ویں صدی کے نمایاں اور ممتاز شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ان کے کلام میں مزاحمتی اور ترقی پسند ادب سے وابستگی بھی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ ڈاکٹر افتخارؔمغل لکھتے ہیں:

     ’’انھوں نے اپنی مزاحمتی آواز کو مؤثر اور مستحکم بنانے کے لیے ترقی پسندوں کی ادبی روایت سے وابستہ علامتی نظام کو نہایت خوش اُسلوبی سے برتا ہے۔ـ‘‘ ۱۸

    جہاں نذیرؔ انجم انقلابی اور مزاحمتی انداز اپناتے ہوئے نظرآتے ہیں وہیں ان کے ہاں خُم و کاکل اور عشق و محبت کی داستانیں ملتی ہیں ۔ وہ انقلابی اندا ز کے علاوہ حسن و عشق میں بھی فراز ؔاور فیضؔ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ۔ محبت کی کیفیات کو وہ یوں اپنے شعر میں سموتے ہیں کہ جیسے کسی پھول کو مالا میں پرویا جاتا ہے۔ وہ دِلی کیفیات کو کِس طرح لفظیات کا جامہ پہناتے ہیں ملاحظہ ہو:

    بجھ گیا دل تو ارمان جلتے رہے

    پردۂ یاس میں سوز عریاں رہا

    (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص ۹۴)

                آئنہ گر بہت ہوئے لیکن 

    کوئی انجم ؔسا عکس گر نہ ہوا

    (نذیر انجم ،قرض سخن ، ص۱۰۴)

     نذیر ؔانجم کی شاعری کے حوالے سے قدرت اللہ شہاب کے الفاظ دیکھیے:

    ــ’’نذیراؔنجم کا نہایت اعلیٰ او ارفع کلام روح کے احتظاظ کا باعث بنتا ہے۔۔۔آزاد کشمیر کے صاحبانِ علم و ادب کو نازاں ہونا چاہیے کہ ایسا صاحبِ اُسلوب اور منفرد غزل گو شاعر بھی ہم میں موجود ہے۔ ‘‘۱۹

    جاوید الحسن جاویدؔ(ا جنوری ۱۹۶۹ء) بھی آزاد کشمیر کے ادبی منظر نامے کے اہم شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کے شہر پلندری میں ان کی ولادت ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی۔ شاعری میں ابتدا ً پروفیسر عبدالعلیم ؔصدیقی سے اصلاح لی بعدازاں راول پنڈی میں پروفیسر یوسف ؔحسن کو اپنا کلام دکھایا۔ اصغر مال کالج راول پنڈی سے انگریزی ادبیات میں ایم ۔اے کی سند حاصل کرنے کے بعد آزادکشمیر کے ضلع عباس پور میں بہ طور انگریزی لیکچرر تعینات ہوئے اسی زمانے میں پہلا مجموعہ کلام "محبت پھول کی مانند”منظر عام پر آیا۔۱۹۹۹ء میں سول سروسز میں سیشن افسر تعینات ہوئے اس عرصے میں دوسرا مجموعہ کلام "پون”کشمیر کلچراکیڈمی نے شائع کیا جاوید الحسن جاویدؔ ابتدا میں جاوید الحسن نشترؔ کے نام سے لکھتے رہے تاہم جلدی ہی نشتر کی بہ جائے جاویدؔ تخلص کرلیا دمِ تحریر جاوید الحسن جاویدؔ آزادکشمیر حکومت میں بہ طور ایڈیشنل سیکرٹری صحت عامہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں حال ہی میں تیسرا مجموعہ "گل و گل زار کا موسم”شائع ہوا۔

    جاوید الحسن جاوید ؔکے پاس روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری بھی ملتی ہے۔ انھوں نے جس کو دیکھا اسے ویساہی بیان کردیا ۔ کئی حوالوں سے آ پ آزادکشمیر کی شاعری میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وطن سے محبت، کشمیر کا نوحہ اور عشق و محبت آپ کی شاعری کا خاص موضوع ہیں۔ حالاتِ حاضر ہ پر بھی آپ نے قلم کا خوب استعمال کیا ہے۔

    پھر سے تعمیر وطن ہے سب حوداث کا جواب 

    تانہ کوئی ہم نفس حیراں رہے گریاں رہے

    تا قیامت اب نہ کوئی حادثہ گزرے یہاں

    تا قیامت ہر بشر شاداں رہے خنداں رہے

            (جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۲۳)

    جاوید الحسن جاویدؔ نے عام فہم اور سادہ الفاظ میں جان دار شاعری کی ہے اُن کے ہاں دلی کیفیات اور جذبات کی بہت عمدہ عکاسی ملتی ہے۔

    جیتا ہوں ،میں اچھا ہوں یونہی بول دیا ہے

    سچ یہ ہے محبت نے مجھے رول دیا ہے

    پوچھا تھا کسی نے یونہی احوال ہمارا

    ہم سادہ مزاجوں نے تو دِل کھول دیا ہے

    زنجیر ہی دیتا مرے پیروں میں تو کیا تھا 

    اُس نے تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا ہے

            (جاوید الحسن جاوید، گل وگلزار کا موسم ، ص ۴۵)

    پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (۱۹۲۵ء تا۳ دسمبر ۲۰۰۹ء) میںضلع سلطان پور اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کی اور آزدکشمیر کے ضلع سدھنوتی میں پلندری کو اپنا مسکن بنایا تمغا ٔامتیاز جیسے اعزازات پانے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کے کئی نام و شاگر ہوئے ۔علامہ اقبالؔ کے سارے کے سارے فارسی کلام کو منظوم اُردو ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ بوستان سعدیؒ، حکایات رومی اور رباعیات عمر خیام کو بھی منظوم اُردو قالب میں ڈھالا۔پلندری میں انتقال کرنے والے عبدالعلیمؔ صدیقی کی غزلیات کا مجموعہ” نہاں خانہ دِل "کے نام سے ان کی وفات کے بعدشائع ہوا۔

    عبدالعلیمؔ صدیقی کے کلام میں فارسیت کے ساتھ ساتھ عربی رنگ بھی موجود ہے۔ ان کا کلام کلاسیکی اور روایتی غزل سے قریب نظرآتا ہے۔ عبدالعلیم ؔصدیقی کے ہاں فن کمال عروج پر ہے۔ ان کی شاعری بلاشبہ آزادکشمیر کے شعرا میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔

    بیمار شِفا پائے گا اے چارہ گرو کیا      

    دکھ اور طرح کا ہے ، دوا اور طرح کی     

    یہ کون بصد شوق چلادار کی جانب     

    لکھی ہے مشیت نے بقا اور طر ح کی ۲۰

    پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی چوں کہ شاعری میں کئی شعرا کے استاد تھے۔ اہل زبان ہونے کی وجہ سے ان کو شاعری پر مکمل دسترس حاصل تھی جس کا ثبوت وہ اپنے کلام میں دیتے ہیں۔ ان کے ایک غیر مردف غزل کے یہ اشعار دیکھیں۔

    ایسا کمال جاتا ہے میرا فکر و فن

    آجائے حرف و صوت میں فطرت کا بانکپن 

    اِس کارزارزِیست میں سرگرم رکھتی ہے

    مجھ کو دِل حزیں میں اک اُمید کی کرن

    ڈرتا ہوں ایسے آج سے جب میر ے قلب میں

    ایک خوش گوار کل کی لگن ہو نہ مؤجزن ۲۱

    اپنے وطن کی مٹی کو انوکھا خراج پیش کرتے ہوئے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کہتے ہیں۔

    جنت کی حوریں شرمائیں اس سے حسن و جوانی میں

    ایسی بھی تاثیر ہے اپنے دیس کے مٹی پانی میں  ۲۲

    اسلم ؔراجا(۱۳ اکتوبر ۱۹۴۸ء) آزادجموںوکشمیر کے شعری ادب میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں پتراٹہ کفل گڑھ ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ شاعری کے علاوہ "تاریخ نامہ راجپوت "آپ کی علمی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔”کونپل کا بدن”اور "آب ریزے "آپ کے فن کا اعتراف ہیں کئی اعزازات آپ کو آپ کی قابلیت کے اعتراف میں دیے گئے۔

    اسلمؔ راجا کے شاگردوں میں بھی ایک بڑی تعدادموجود ہے ۔ آپ کا کلام بھی آزادکشمیر کے شعری منظرنامے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    شفق جب بادلوں کے ساتھ ہم آغوش ہوتی ہے

    مجھے تیری محبت کا زمانہ یاد آتا ہے ۲۳

    یہ لفظ لفظ چن کر سوچوں کے ساتھ بننا

    میرا یہی تو فن ہے ، جولاہا ہوں سخن کا ۲۴

    سخن کا جولاہا سمیت کئی طرح کی نئی تشبیہات اسلم ؔراجا کے کلام کانمایاں وصف ہے اپنے شہر کو بھی کئی خوب صورتی سے عدن بتاتے ہیں ملاحظہ ہو۔

    رنگوں میں میری رنگت ، خوش بو سے میری نسبت

    میں باغ پالتا ہوں ، باسی ہوں میں عدن کا ۲۵

    مخلص و جدانیؔ(۲۱ مارچ ۱۹۴۴ء) ڈاکٹر صابر ؔآفاقی کے چھوٹے بھائی ہیں ۔مظفرآباد کے مضافاتی گائوں گوہاڑی میں پیدا ہوئے ۔ اُردو شاعری کے علاوہ گوجری شاعری آپ کی پہچان بنی۔ شاعری میں ابراحسنی (شاگرد احسن مارہروی) سے اصلاح لی۔آپ کا مجموعہ کلام "صلیبوں کا شہر”منظر عام پر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ ’’نئی بہار نئے پھول ‘‘ آپ کا دوسرا مجموعہ ہے گوجری میں کئی مجموعے آپ کی پہچان بنے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، مخلص وجدانیؔ کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

    ’’آپ کی شاعری میں ذاتی تجربے ، اجتماعی واردات سے گھل مل کر ایک وحدت بن رہے ہیں اور اس تخلیقی عمل سے ایک ایسا امکان سامنے آرہا ہے جو منفرد بھی ہے اور مؤثر بھی۔‘‘ ۲۶

    مخلص ؔوجدانی کی شاعری میں مقامی علامات واستعارات کا استعمال خوب صورتی سے کیا گیا ہے ۔ بہ غور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلص ؔوجدانی کی غزل میں بے شمار نفسیاتی واقعاتی اور وارداتی عوامل کا اجتماع ملتا ہے۔ ان کی غزل میں اُن کی جنم بھومی سے محبت نظرآتی ہے ۔ان کا انداز اس قدر دِل پذیر ہے کہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ کبھی ان کے کلام میں قاری خود کو غرق پاتا ہے اور کبھی سطح پر تیرتا ہے۔ مخلص ؔوجدانی کی شاعری کے حوالے سے جگن ناتھ آزاد رقم طراز ہیں:

    ’’نام نہاد جدید شعرا کے ہجوم میں مخلصؔ وجدانی ایسے شاعر کے کلام کا نظرمیں آجانا ایسا ہی ہے جیسے دھوپ میں چلتے ہوئے مسافر کے لیے کہیں سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آجائے۔‘‘۲۷

    مخلص وؔجدانی نے اپنی غزل میں ایسے ایسے جوہر دکھائے ہیںکہ وہ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں۔ان کے شعروں میں ذہن کا کرب ،گردو پیش کا غم ، مجبور یوں ، معذوریوں کا ماتم جابہ جا ملتا ہے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کے دکھ سے اور ان کے مسائل سے پوری طرح آشنا ہیں ان کی فکری سطح جدت کی حامل ہے۔ جبھی تو ڈاکٹر فرمان فتح پور ی نے کہا کہ ۔

    ’’آپ کی شاعری بہ اعتبار فکر نو اور اُسلوب تازہ گوہر نایاب ہیں۔‘‘۲۸

    مخلص وؔجدانی کی شاعری سے کچھ اشعار مثال کے طور پر دیکھیں۔

    آئو سب مل کر فصیلِ شہر کو اونچا کریں

    ہے سلامت شہر تو محفوظ اپنا گھر بھی ہے

          (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۱۷)

    ترا غم ہے ان مول شے اِس جہاں میں

    یہ جنس گراں، جس کو بھی راس آئے

        (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص۳۵)

    زمانے کے کوئی معیار پر اترا نہیں مخلصؔ 

    خرد کو دارپر کھینچا ، جنوں پر سنگ باری کی

                (مخلص وجدانی ، صلیبوں کا شہر ، ص ۴۳)

    لیاقت ؔشعلان(۱ جنوری ۱۹۷۹ء) آزادکشمیر کے لکھنے والوں میں نووارد ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کا اصلی نام محمد لیاقت خان ہے آپ کیاٹ کلاں راولاکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایم اے اُردو تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک مقامی اسکول میںبہ طور جونیئر مدرس پڑھا رہے ہیں۔لیاقت ؔشعلان ک شاعری وارداتِ قلبی کی شاعری ہے ۔اُن کو غزل میں کمال مہارت حاصل ہے۔ ان کی غزل جان دار اور عمدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی محافل میں و خوب جانے جاتے ہیں۔ لیاقت ؔشعلان کی غزل سے کچھ اشعار دیکھیں۔

    ہیں وہ حالات کہ خاموش رہوں، اف نہ کروں

    کاٹا جاتا ہوں کہیں میں بھی شجر کے اندر 

    اتنا منصب سے ہوا جاتا ہے غافل انسان 

    روتے دیکھا ہے خدا میں نے بشر کے اندر ۳۴

    تاریخ دکھائے گی زمانے کو یہ منظر 

    طوفانی ہوا سے یہ دیا کتنا لڑا ہے ۳۵

    کتنی بار پیاسے مرے ہیں خوش فہمی کے ہاتھوں

     لیکن اب تک اترے نہیں ہیں دریا سرابوں والے ۳۶

    صحرا نے خود اپنی آگ سے پیا س بجھائی اپنی

    جنگل جنگل برس رہے تھے دور سحابوں والے ۳۷

    علامہ جوادؔ جعفری(۴ جنوری ۱۹۵۶ء)آزادکشمیر کے شعری روایت کے ایک اہم شاعر ہیں۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ میں ولادت ہوئی۔ جوادؔ جعفری کو جو ماحول میسر آیا اس نے ان کے شعروادب سے دل چسپی پید اکرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان کی علمی قابلیت نے ان کو شاعر کے ساتھ ساتھ عمدہ نثر نگار بھی بنا دیا۔ چودھری غلام عباس کی شخصیت، رومیٔ کشمیر میاں محمد بخش کے علاوہ سردار عبدالقیوم خان کی زندگی پر تصانیف ان کے فن کا ثبوت ہیں ۔ شاعری میں آپ کا مجموعۂ کلام’’ احتجاج‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جب کہ ’’فکر ِامروز‘‘ زیر طبع ہے۔ جوادؔ جعفری نے فارسی زبان پر دسترس کے بدولت اِس زبان سے خوب استفادہ کیا ۔انھوں نے ریڈیو آزادکشمیر سے وابستگی کے دوران میں کئی طرح کے اعزازات حاصل کیے۔ علاوہ ازیں کشمیرکلچر اکیڈمی کے صدر نشین کی حیثیت سے بھی انھوں نے اُردو ،فارسی اور کشمیری ادب کو بڑی تعدادمیں شائع کرکے بھی ادب کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

    جواد ؔ جعفری کی شعر و ادب سے وابستگی بچپن سے ہی رہی بارہ برس کی عمر میں "برسات کا موسم”کے عنوان سے نظم لکھی۔ جو شؔ ملیح آبادی، احمد ندیمؔ قاسمی ، احمد فرازؔ، اور افتخارؔ عارف جیسے بڑے شاعر وں کی صحبت میں آپ کے شعر کہنے میں نفاست اور تازگی آئی۔جوادؔ جعفری نے حالاتِ حاضرہ کو اپنے شعروں میں سمونے کا کامیا ب تجربہ کیا ہے۔ ان کا کلام ایک دھرتی کی نمائندگی کرتا ہے ۔جذبات واحساسات ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔وہ اپنے وطن ،اپنی مٹی اور اپنی دھرتی سے جو محبت کرتے ہیں وہ ان کی شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے۔جواد ؔجعفری اپنی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

    ’’مجھے معلوم ہے کہ یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے یا پھر ایک شبِ تاریک میں ٹوٹے ہوئے مٹی کے چراغ کی لو ،لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس آواز کا اپنا ایک آہنگ ہے جو اپنا وجود ضرور برقرار رکھے گا،اور اس ٹوٹے ہوئے چراغ سے نکلنے والی روشنی گھمبیر اندھیروں میں اجالوں کی نمائندگی کا عظیم فریضہ سر انجام دے گی۔‘‘۳۳

    علامہ جواد ؔجعفری کے کلام سے کچھ اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔

    ابنِ آدم کو ملی کن گناہوں کی سزا 

    لغزشِ آدم کا واجب ہم پہ کفارہ نہ تھا

        (جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)

    جنھیں معلوم نہ ہو فرق الفت اور نفرت کا

    انھیں چاہتے اگر ہیں آپ تو بے کار چاہتے ہیں

      (جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)

    تعلُق کچھ نہ کچھ جواد ؔکا ان سے تو ہے اب بھی

    اسے چاہیں نہ چاہیں اس کے وہ اشعار چاہتے ہیں

      (جواد جعفری ، احتجاج ، ص۶۵)

    گنوایا تم  نے مجھ کو ہر قدم پر

    تجھے میں ہر قدم پر پا گیا ہوں

        (جواد جعفری ، احتجاج ، ص ۶۰)

    نا زؔ مظفرآبادی (۱ جنوری ۱۹۶۰ء)آزادکشمیر کے شعروادب کی روایت میں نازؔ مظفرآباد ی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔مظفرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر سے ہی شعرگوئی کی طرف رجحان تھا۔ غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کی ۔ ناز ؔمظفرآبادی کے چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ان کی شاعری پر پروفیسر سحر ؔانصاری لکھتے ہیں۔

    ’’نازؔ مظفرآبادی کہنہ مشق شاعر ہیں ۔۔۔وہ اپنے سخن کو سنوارنا اور نکھارنا چاہتے ہیں۔ شاعری ان کے لیے زندگی کا سنجیدہ مسئلہ ہے اس لیے وہ توجہ اور انہماک سے اپنے فن کا معیار قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘۳۴

    نازؔ مظفرآبادی غزل کے شاعر ہیں اور غزل ہی کا مزاج رکھتے ہیں لیکن ان کی نظمیں بھی کئی طرح سے خصوصیت کی حامل ہیں۔ ان کی شاعری کا بڑا حصہ حقیقت اور جذبات کی غمازی کرتا ہے۔ نازؔ مظفرآبادی نے چوں کہ زندگی کا بڑا حصّہ غریب الوطنی میں بسر کیا اس وجہ سے یہ چیز بھی ان کے کلام میں شامل نظرآتی ہے۔ ان کی شخصیت ان کے کلام میں جھلکتی ہے ناز ؔمظفرآبادی کے کلام سے چند مثالیں دیکھیے۔

    وہ تو ظرف تھا ایک سمندر کا

    ورنہ دکھ دریائوں جیسا تھا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۲۴)

    سوچ کر قدم رکھنا عشق کی عدالت میں 

    عمر بیت جاتی ہے فیصلہ نہیں ہوتا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۳۰)

    جذبہ عشق اگر دل میں نہیں ہے زندہ

    آدمی صاحب ایمان نہیں ہوتا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص۴۵)

    وہ کسی ایک کا بھی ہو نہ سکا 

    ہاں اسی بات کا تورونا تھا

    (ناز مظفرآباد ی ، ہم سُخن ، ص ۸۱)

    زکریا شازؔ (۱۹۶۵ء )آزادکشمیر میں زکریا شازؔ بھی غزل کے حوالے سے معتبر نام ہے۔ آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی سے تعلق رکھنے والے زکریا شازؔ اپنی غزل کے داخلی و خارجی دونوں سطحوں پر یکساں توجہ دیتے ہیں ۔آپ کا مجموعہ کلام ’’خاموشی کی کھڑکی سے‘‘ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا۔ زکریا شازؔ کی غزل کلاسیکی روایت کے گہرے مطالعے کا پتا دیتی ہے اُن کی غزل میں تصورات کا عنصر زیادہ ملتا ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے اُن کا کلام خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مضامین زیادہ تر داخل سے برآمد ہو کر خارج میں وارد ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ دریائے پونچھ کے کنارے زندگی کے شب وروز گزارنے والے زکریا شازؔ کے ہاں محبت نمایاں موضوع ہے جس کو انھوں نے بری کامیابی کے ساتھ نبھایا ہے۔ان کی جزئیات نگاری اور معاشرے کی مختلف قدروں کی عکاسی بھی خاص وصف بن چکی ہے ۔ ان کے ہاں مضامین اور کیفیات میں یکسانیت فنی معیار اور ابلاغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن موضوعاتی پھیلائوکو قدرے محدود کردیتی ہے۔جس کی بِنا پر فکری یکسانیت کے سلسلے میں حبس کا احساس ہوتا ہے۔ محبت کے موضوعات میں زکریا شاز ؔکی ثروت مندی پر محمد اظہارؔ الحق لکھتے ہیں۔

    ’’محبت کے باب میں اُس نے مضامینِ نولانے کی کوشش کی ہے اور یہ کوشش بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ اس نے نقشے کے بغیر محبت کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ہے۔ ۔۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے زمانے سے الگ چلنے کا اہتمام کیا ہے۔‘‘۳۵

    زکریا شازؔخیال و معنی کو شعری سرمایہ سمجھتے ہوئے اس کے تمام تر لوازمات کو نبھاتے ہیں ۔ زکریا شازؔ کے کلام سے یہ اشعار ان کے اُس وصف کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔

    پیار کا ساون برستا ہے تو تھمتا ہے کہاں

    بھیگتا ہوں میں اِدھر اور وہ اُدھر بارش کے بیچ

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۳۳)

    اب لطف کے اسرار نہیں کھلتے ہیں مجھ پر

    کر مجھ سے ملاقات کسی اور طرح سے

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۴۱)

    اس نے اس بار توحیران ہی کر ڈالا ہے

    میں سمجھتا تھا کہ جذبات سمجھتا ہے کوئی

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص۴۹)

    شازؔ خود میں ہی گنواتے ہوئے خود کو رکھنا 

    ہاتھ جب تک نہ کوئی اپنی نشانی آئے

    (زکریا شاز ، خاموشی کی کھڑکی سے ، ص ۵۶)

    ڈاکٹر وزیر آغا کے بہ قول:

    "زکریاؔ شاز کی غزل جدید لب و لہجے کی حامل ہے کہیں بھی 

    شاعر کی بھیگی ہوئی آواز جذباتی خروش میں تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘   ۳۶

    سید شہباز ؔگردیزی (۱۹۷۶ء ) کا تعلق آزادکشمیر کے ضلع باغ سے ہے۔ آپ کی پیدائش حیدر آبادسندھ میں ہوئی۔ شاعری کاشغف ابتدائی عمر سے ہی تھا۔ شہباز ؔگردیزی نے اپنے اس شوق کو پروان چڑھایا اور شاعری میں پروفیسر شفیق رؔاجا اور ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اصلاحِ سخن لی۔ ان کے ہاں جذبات واحساسات کی ملی جلی فضا نظرآئی ہے۔ شہبازؔ گردیزی کے دوشعری مجموعے "حقیقتوں کے عذاب "اور "خواب کون دیکھے گا”منظر عام پر آچکے ہیں ۔اس کے علاوہ شعرائے ضلع پونچھ کا انتخاب "اجلی مٹی”کے نام سے شائع کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ "متاع حسن”کے عنوان سے تاریخ کشمیر اور "جمہوریت کی دیوی”کے نام سے اخباری کالمز کا مجموعہ بھی شہبازؔ گردیزی کی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتے ہیں ۔طلوع ادب آزادکشمیر کے معتمد اعلیٰ چیئرمین افکار پاکستان ، صدر حسنِ بیان آزادکشمیر ،ممبر کشمیر کلچرل بورڈ کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۵ء میں ان کو کلچرکلچرل اکیڈمی ایوارڈ مل چکا ہے۔۲۰۰۹ء میں امیزنگ فیلڈ کارکردگی ایوارڈ ۲۰۱۱ء میں مرسی کور کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ کئی طرح کے اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ سید شہباز ؔگردیزی دیگر شعرا کی طرح محبت کی جذبوں سے لبریز ہیں جب کہ جذبہ حب الوطنی آپ کی شاعری کا خاصا ہے۔ خواب سید شہبازؔ گردیزی کا ایک کامیاب استعارہ ہے وہ خواب دیکھتے ہیں آزادیٔ کشمیر کا خواب ، امن و قرار کا خواب، محبت وآتشی کا خواب یہی وجہ ہے کہ ان کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کے بعد ان کے یہ خواب کہیں دم نہ توڑ دیں ۔ ڈاکٹر افتخارؔ مغل لکھتے ہیں۔

    ’’سید شہبازؔ گردیزی کی شاعری میں خواب کا استعارہ ایک نئے تصور ، ایک نئی  معنویت ، ایک نئے رنگ ایک نئے امکان اور ایک نئے روپ کے ساتھ آیا ہے سید شہبازؔ گردیزی خواب کا خواب دیکھ لینے پر قادر ہے اس کے ہاں خواب ایک پرچھائی نہیں ایک مکمل امکان ہے وہ اس امکان کے امکان میں جھانک لیتا ہے وہ اپنے وجدان سے اپنے Visionکے کیمرے سے خواب کے پس منظر کی تصویر لے لیتا ہے۔‘‘  ۳۷

    سید شہباز ؔگردیزی کے کلام میں خوابوں کا بیان اس قدر نفاست سے ملتا ہے کہ قاری کے دِل پر ایک کیف و سرور کی سی سرشاری چھا جاتی ہے۔ ان کے کلام سے یہ اشعار بہ طور مثال: 

     عجیب طرح کے خوابوں سے واسطہ ہے مرا

    عجیب ہی مرے دِل میں خیال آیا ہے

    (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۱۶)

     اس اک بات پر اٹکی ہوئی ہے سانس میری

    میں مرگیا تو میرے خواب کو ن دیکھے گا

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۲۶)

    تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے

     اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۳۰)

     اتنے محتاط ہیں ہم لوگ تری دُنیا میں

    اپنی آنکھوں سے بھی کچھ خواب چھپا کر دیکھے

          (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۷۵)

    سرخ آنکھوں کا حال مت پوچھو

    شب گزاری ہے اضطراب کے ساتھ

            (شہباز گردیزی ، خواب کون دیکھے گا ، ص ۸۱)

    احمد عطا ؔاللہ (۱۰ اپریل ۱۹۶۵ء )خطہ کشمیر سے متعلق ایک اور اہم شاعر احمد عطا ؔاللہ ہیں ۔احمد عطاؔاللہ کے والدین بسلسلہ روزگار لاہور میں مقیم ہیںیہی وجہ ہے کہ انھوں نے لاہور میں ہی جنم لیا۔ اپنی تعلیم لاہور میں ہی مکمل کی۔ ۱۹۸۹ء ؁ میں اُردو زبان و ادب میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ اسی ادارے میں عباس تابشؔ کی صحبت نے آپ کو باقاعدہ شاعر بنادیا۔ عباس تابشؔ آپ کے سینئر تھے۔ احمد عطاؔ اللہ لاہور میں احمد ندیم ؔقاسمی کی صحبت سے بھی مستفید ہوئے۔ یہی وجہ ہے ان کے کلام میں دیہات اور گائوں کی زندگی جا بہ جا موجود ہے۔ ترقی پسندی کے عناصر بھی احمد عطاؔاللہ کی شاعری کا خاصا ہیں۔

    احمد عطاؔاللہ جدید لفظیات کے شاعر ہیں ان کے امکانات بالکل تازہ جب کہ ُاسلوب جداگانہ اور منفرد ہے۔ وہ ایک فطرت شناس اورزندگی کا گہر امشاہدہ رکھنے والے انسان ہیں۔ دیہی خصوصیات اُن کی شاعری میں ملتی ہیں۔ شعری تخیل اور فکری سطح پر ان کے تمام اشعار میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ احمد عطاؔ اللہ گائوں کی فطری محبت کے اسیر ہیں ان کے مطابق گائوں میں محبتوں کا موسم شہروں کی نسبت زیادہ ہے جب کہ فطری حسن بھی گائوں میں ہی ملتا ہے ۔ان کی شاعری میں لہے کا نیا پن اور محبت کا غیر روایتی اظہار بھی انوکھے انداز میں موجود ہے۔ احمد عطاؔاللہ کا خاص اُسلوب جہاں بڑی سے بڑی غیر معمولی بات کو سادہ الفاظ کی لڑی میں پروسکتا ہے۔ وہاںان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ بات کو قاری کی ذہنی سطح کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ وہ خارجیت سے زیادہ داخلیت پر محنت کرتے ہیں۔ احمد عطاؔ اللہ نے غزل کے میدان میں نئے مضامین لانے کی کوشش کی ہے اپنی اس کوشش میں وہ خاصی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ظفرؔاقبال ان کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں:

    ’’جو لوگ میری نحوست طبع سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا یہ اعتراف کیا معنی رکھتا ہے اور اپنی تمام تر بدلحاظی کے باوجود میرا سے عمدہ ، بلکہ قابل رشک قرار دینے کا مطلب کیا ہے مجھے اس شاعر نے خوش کیا ہے اور واقعتا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔‘‘۳۸

    احمد عطاؔاللہ کے کلام میں سے نمونے کے طور پر کچھ شعر درج ذیل ہیں۔

     سازشی دِل تجھے ہمت نہیں ہونے دوں گا

     دوسری بار محبت نہیں ہونے دوں گا

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۵) 

     بیچ رستے کے روک دوں گا تجھے

     زندگی! میں بھی دیکھ لوں گا تجھے

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۳۹) 

     پہلے ہی یقین شہر پر گائوں نہیں کرتا

    کیا سوچے گا واپس میں دوبارہ نہ گیا تو

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص۴۶) 

     شہر گائوں کی نیندیں چرالیں جس کی خوش بو نے

     وہ کیسا پھو ل تھا کب بات سے باہر نکل آیا

        (احمد عطا اللہ ، ہمیشہ ، ص ۸۷) 

      ایاز ؔعباسی آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پیدا ہوئے بچپن سے ہی شعر و ادب کی طرف رغبت تھی ۔ ابتدامیں نظم اورہائیکو لکھیں تاہم غزل اور نعت میںپہچان بنائی۔ ایاز ؔعباسی مقدار سے زیادہ معیار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایاز ؔعباسی کا مجموعہ کلام "ظہور”کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔ جب کہ دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے۔ ایازؔ عباسی کی شاعری میں حبِ رسولؐ بھی موجود ہے اور حب الوطنی بھی ۔خم وکاکل بھی ہے اور عشق و محبت بھی ایازؔ عباسی اپنے جذبات کو غزل اور نظم کے لبادے میں بہت نفاست کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔تلخی ٔایام اور کربِ محبت ان کا اہم ترین موضوع ہے۔ وہ کبھی چلچلاتی دھوپ میں سفر کرتے ہیں تو کبھی گھنی چھائوں میں پڑائو ڈالتے ہیں۔ یادوں کی اک بستی کے مکین ایازؔ عباسی قلم اور زبان کے ازراں الفاظ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عشق ِمحمدﷺ وہ شے ہے کہ جو زمانے کے ظلم و ستم سے اور اذیتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ایازؔ عباسی کی شاعر ی میں حقیقت نگاری اور واردات قلبی یکساں طور پر ملتی ہیں۔ان کے مجموعہ کلام سے چند اشعار دیکھیے ۔

     عمر تیری بھی ماہ و سال میں ہے

     بادشاہا ! تو کس خیال میںہے

        (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)

    ساربان اُونٹنی پر بیٹھتا تھا

    جب عمرؓ کو مہار دی گئی تھی

          (ایاز عباسی ، ظہور ، ص،۹۹)

    منقبت ہدیہ کروں حضورؐ کے گھرانے کے لیے

    لفظ منت کریں تحریر میں آنے کے لیے

    (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۲۱)

     اس زمانے نے تو بس مار ہی ڈالا ہوتا 

    مصطفیؐ نے نہ اگر ہم کو سنبھالا ہوتا

    (ایاز عباسی ، ظہور ، ص، ۹۷)

    الطاف ؔعاطف( ۲۲دسمبر ۱۹۵۰)آزادکشمیر کے شعری ادب کی روایت میں کیپٹن (ر) الطافؔ عاطف کا نام بھی جانا پہچانا جاتا ہے ۔ آزادکشمیر کے ضلع باغ کے مشہور گائوں کفل گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ایف ۔اے انٹر کالج باغ اور گریجویشن جامعہ پنجاب ، لاہور سے مکمل کرنے کے بعد آرمی ایجوکیشن کور میں جونیئر کمیشن حاصل کیا ۔ اپنی خدمات ملک و قوم کے لیے پیش کرتے ہوئے۲۰۰۳ء میں بہ طور آنری کیپٹن ریٹائرہوگئے۔

    باغ آزادکشمیر میں پہلی طلبہ تنظیم کا بانی و صدر ہونے کا منفرد اعزاز رکھنے والے الطاف ؔعاطف نے اپنے کالج کے عرصے میں ۱۹۶۷ء سے شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی۔ طویل مشقِ سخن کے بعد ۲۰۱۲ء میں پہلا مجموعہ کلام ’’جھیل کا چاند‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ باغ کی کوئی بھی ادبی محفل آپ کے ذکر اور آپ کی شرکت کے بعد نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کی مکمل توجہ شعر و سخن پر مرکوز ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا دوسرا مجموعہ کلام بھی زیر طبع ہے۔

    توانا اور مثبت شعری سوچ کے حامل الطافؔ عاطف کے کلام میں ہر طرح کے موضوعات ملتے ہیں ۔ ان کے کلام کو دیکھ کرقاری باآسانی اندازہ کرسکتا ہے کہ زندگی کا بیشتر حصہ فوج میں گزارنے والا یہ شاعر موضوعات کی کمی کا ہرگز شکار نہیں رہا۔ وہ محبت کے لازوال جذبے کے مختلف پہلوئوں کو موضوع سخن بناتے ہیں ۔سید شہبازؔ گردیزی کے مطابق:

    ’’انھوں نے زندگی میں بے شمار نشیب وفراز دیکھے ہیں حادثات ِزمانہ پر گہری نظر رکھی ہے اس لیے ان کی شاعری میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج اور تنوع پایا جاتاہے ۔ ان کی شاعری میں جہاں حال کا عکس نمایاں ہے وہاں ماضی اور مستقبل کی جھلک بھی پائی جاتی ہے۔۳۹

    عزم و ہمت کے جذبات کے حامل الطافؔ عاطف ہمیشہ حالات کے روشن پہلو تلاش کرتے ہیں ۔اِن کے کلام سے چند اشعار نمونے کے طور پر دیکھئے۔

    جلوہ تمھارے حسن کا ہر پھول میں عیاں 

    چرچے ہیں پھر بھی دہر میں تیرے حجاب کے

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)

    جو تو بچھڑا تو لگتا ہے مجھے ایسا

    کہ جیسے میں سمند ر پار بیٹھا ہوئے 

        (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۳۳)

    چپکے چپکے جھانکتی رہتی ہیں جب بھی

    راز کی باتیں بتاتی ہیں یہ آنکھیں

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص۴۱)

    زندگی ہاری ہے عاطفؔ جن کی خاطر

    روپڑے وہ ، بات آئی جب سمجھ میں

        (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۵۲)

    چین آتا نہیں انھیں عاطفؔ

    دوسروں کا جو دِ ل دکھاتے ہیں

          (الطاف عاطف ، جھیل کا چاند ، ص ۲۱)

    محمد خان نشترؔ(۱۹۲۷ تا ۱۹۸۵) آزادکشمیر کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اُردو شاعری میں آپ روایت کی پاسداری کرتے ہیں۔محمد خان نشترؔ نے آزادکشمیر میں اُردو شعر و ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔محمد خان نشترؔ کے بیٹے زاہد ؔکلیم کے مطابق ۱۹۲۷ میں مظفرآباد شہر میں پیداہوئے۔ ۱۶سال کی عمر میں والدہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ طالب علمی کے زمانے میں سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ مضامین نویسی علم و ادب اور کھیلوں میں دل چسپی لینے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؔ کو بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے ۔ اپنے اس دور میں بال جبریل کو سرخ اور نیلی روشنائی سے خوش خط لکھ کر اپنے ادبی ذوق کا ثبوت دیا۔ معاشی طور پر زیادہ سازگار حالات نہ تھے۔ محکمہ جنگل میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کرتے رہے ۔ زاہدؔ کلیم کے مطابق:

    ’’محکمہ جنگل میں تمام عمر کلرکی کی ، لیکن شرافت اور وضع داری کے سبب افسرانِ بالا بھی ہمیشہ احترام کرتے تھے ۱۹۷۶ء میں ملازمت سے سبک دوش ہو کر ذوق کی تسکین کے لیے کتابوں کی دُکان ’’نیلم بک ڈپو‘‘ کے نام سے کھول لی جو کہ دُکان کم اور مرکزعلم و ادب زیادہ تھی۔‘‘۴۰

    محمد خان نشترؔ نے اپنی زندگی علم و ادب کے لیے وقف کررکھی تھی۔ ان کی یادگار ایک تاریخ ’’رشحات نشتر‘‘  اور ایک مجموعہ شاعری’’ لمحات نشتر ‘‘، ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے محمد خان نشتر ؔاپنے وقت کے اہل سخن سے رابطے میں تھے اس وقت کے تمام رسائل و جرائد باقاعدگی سے آپ کو ارسال کیے جاتے تھے۔

    محمد خان نشترؔ فشار خون کے مریض تھے او اسی سبب ۲۸ مئی ۱۹۸۵ء برین ہیمرج کا شکار ہوکر دُنیا سے رخصت ہوئے۔زاہد ؔ کلیم کے مطابق:

    ’’وفات سے کچھ وقت پہلے میرے چھوٹے بھائی زبیر کو بلا کر آخری شعر لکھوایا جو بعدازاں قبر کے کتبے پر کندہ کیا گیا۔‘‘ ۴۱

    محمد خان نشتر ؔکا یہ آخری شعر ان کی پہچان بن گیا ۔ بلاشبہ یہ ایک زندہ شعر ہے جو صداقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک کرب اور دکھ رکھتا ہے۔یہ شعر اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا بڑے سے بڑا جابر بھی اک روز موت کے چنگل میں آئے گا۔

     نشترؔ بہت دکھاتے تھے دم خم حیات میں

    یہ کیا ہوا کہ ایک ہی ہچکی میں سو گئے

            (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)

    مری نزاکت ِ احساس اس زمانے میں

    ہجوم ِ لالہ و سرووسمن سے روٹھ گئی

    (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص۸۰)

    پھر زندہ ہورہی ہیں روایات ِ دشتِ قیس

    محشر ، خرام لیلی شام و سحر میں ہے

    (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۹۸)

    یہ حادثہ بھی دل نے ہے یک سر بھلادیا

    وہ کب ملے کہاں ملے اور مجھ سے کیوں ملے

          (محمد خان نشتر، لمحات نشتر ، ص ۷۳)

    اکرم ؔسہیل (۱۹۵۵ء)آزادکشمیر کی شعری روایت میں اکرمؔ سہیل کا نام خاصا معروف ہے۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری حقیقت کی شاعری ہے ۔ جہاں کوئی واقع رہنما ہوتا دیکھا فوراً اسے موزوں کرلیا۔ ترقی پسند تحریک کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ترقی پسندشاعری کو پسند کرتے ہیں۔ کوٹلی آزادکشمیر کے ڈگری کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی سے لاکا امتحان پاس کیا۔ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات رہے ۔ دمِ تحریرپبلک سروس کمیشن ،آزادکشمیر کے ممبر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب کے لیے بھی پھرپور خدمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔۲۰۱۶ء میں اولین شعری مجموعہ ’’نئے اُجالے ہیں خواب میرے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ اکرمؔ سہیل کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر مقصودؔ جعفری لکھتے ہیں۔

    ’’اکرم ؔسہیل کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے ۔ افکار جدید ہیں اور لہجہ روایتی ہے۔۔۔آزادی اور مساوات ان کا مسلک اور انسان دوستی مذہب ہے۔‘‘۴۲

    اکرم سہیل ؔکی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

    غریب ، مفلس و محکوم کی یہ قسمت ہے

    مرے نہ جو وہ دھماکوں سے مارا جائے گا

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص ۱۸۹)

    بس اہلِ درد ہی جانیں یہ زبانِ درد

    سخن ہے ایسا کہ محتاج قیل و قال نہیں

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۵)

    جھول کر دارپر منصور نے قاتل سے کہا

    ہم کہاں مرتے ہیں مصلوب دوبارہ کیجیے

    (اکرم سہیل ، نئے اُجالے ہیں خواب میرے ، ص۲۰۸)

    شفیق ؔراجا (۴فروری ۱۹۵۶ء) آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں پید اہونے والے راجا محمد شفیقؔ خان ادبی دُنیا میں شفیق ؔراجا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ شفیق رؔاجا نے ایم اے اُردو تک تعلیم حاصل کی پھر درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔ ضلع باغ میں آپ کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ ہے جن میں سید شہبازؔ گردیزی معروف شاعر ہیں۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی کے مطابق:

    ’’ان کے کلام میں فکر کی ندرت بھی ہے اور اظہار کی دلاویزی بھی۔ شاعری کی فطری استعداد کو وسیع مطالے نے جلا بخشی ہے اور زبان و بیان کو دِ ل کش اور موثر بنایا ہے ۔ وہ قدیم و جدید شعری اسالیب سے بہ خوبی واقف ہیں روایت سے بغاوت نہ کرتے ہوئے رویوں کو اپنایاہے‘‘۴۳

    شفیق ؔراجا کے کلام میں جذبہ حب الوطنی اور حسن و محبت کے موضوعات بہ کثرت ملتے ہیں۔ آسان و عام فہم زبان ان کے کلام کا خاصا ہے۔ شفیق ؔراجا کا پہلا مجموعہ ’’میں حرف حرف سمیٹوں ‘‘ ۱۹۹۸ ء میں منظر عام پر آیا ۔ آپ باغ کی سب سے فعال ادبی تنظیم طلوع ادب کے صدر نشین او ربانی ہونے کے علاوہ پہاڑی ادبی سنگت کے بھی ضلعی صدر ہیں۔ شفیق ؔراجا کے مجموعہ کلام میں سے چند اشعار دیکھیں۔

    ستم کی ، ظلمت کی ماری ہوئی رُتیں کب تک 

    مرے وطن تیری قسمت میں ظلمتیں کب تک 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۴۵)

    ایک حیرت کا سمندر مؤجزن پاتے ہیں ہم 

    جب تخیل میں کبھی کرتے ہیں ہم پیکر شمار 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۶۲)

    مرے خیال کی حرمت اِسی سے قائم ہے 

    کہ تیرے پیار نے کرنا ہے سرخرو مجھ کو 

            (شفیق راجا ، میں حرف حرف سمیٹوں ، ص ۸۳)

    احسن ؔسلیمان(۲۸ مئی ۱۹۹۱) آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گائوں تتہ پانی میں پیدا ہوئے۔ احسن ؔسلیمان کو اسکول دور سے ہی شعر و ادب سے دل چسپی پیدا ہو گئی جس کی بنیادی وجہ کم سنی میں ہی کتاب سے محبت ہے۔ پروینؔ شاکر، احمد فرازؔ، جون ؔایلیا اور ساغر ؔصدیقی سے متاثر رہنے والے احسن سلیمان نے سید شہباز ؔگردیزی سے اصلاح لی ۔ لیکن خدا داد صلاحیتوں کی بدولت سر شت میں شاعری کا ملکہ موجود تھا لہذا ستمبر ۲۰۱۶ء میں ہی ’’مجھے تم سوچ کر دیکھو‘‘ کے نام سے شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ کم عمری میں شعری مجموعہ شائع ہوا لیکن اس کے ہاں فکر،پختہ نظر آتی ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے مطابق:

    ـ’’ اس عمر میں ہر شخص زیادہ تر محبت کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن احسن ؔسلیمان کی ایک خاص بات ہے۔ کہ اسے محبت کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز سے عشق ہے۔ جو اس کے اشعار اور اس کی نظموں میں نظر آتا ہے۔‘‘۴۴

    احسن ؔسلیمان کم عمر ہونے کے باوجود الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط واقع ہوا ہے۔ وہ اس بات کی ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے کلام میں کوئی فنی سقم نہ رہ جائے۔ زبان و بیان کے حوالے سے بھی اس کی کوشش قابل قدر ہیں ۔ احسنؔ سلیمان ابھی عمر کے اس حصے میں ہے جس میں عموماً فکری سطح کمزور ہوتی ہے۔ لیکن اس کے کلام سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ تخلیق کار ہے۔ جو شاعری کو فرض ِاولین سمجھتا ہے اور پوری دل جمعی سے یہ کام کرتا ہے۔

    احسن ؔسلیمان کی شاعری ابھی ارتقا کی ابتدائی سیڑھیوں پر ہے۔ اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آنے والے وقت میں آزاد کشمیر کا ایک اہم شاعر بن جائے گا۔ احسن وؔقت کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہتر شاعری کر رہا ہے۔احسن ؔکے ہاں باغیانہ روش بھی اس کے خاص اندازکا حصہ ہے وہ اپنی دھرتی سے جنوں کی حد تک پیار کرتا ہے اور اس دھرتی کے لیے وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے جذبے سے سرشار ہے۔ احسن ؔکی شاعری کے حوالے سے رانا توفیق صدیقی لکھتے ہیں:

    ’’احسنؔ کی عمر کے اعتبار سے ان کی غزلیات بھی بہترین ہیں۔ ان غزلیات میں انھوں نے غزل کی روایت کو ملحوظ رکھا ہے۔ غزلیات احسن کو پڑھ کر قاری محسوس کرتا ہے کہ شاعر کو کسی بھی مقام پر قافیے اور ردیف کی کمی نہیں رہی۔ ان کی غزلیات واردات قلبی کے سادہ اور دل کشں اظہار سے مزین ہیں۔ مجموعی طور ان کا کلام ان کے عمدہ تخیل اور جذبات واحساسات کا حسین مرقع ہے۔‘‘۴۵

    احسن ؔسلیمان کی شاعری میں سے چند مثالیں دیکھیں جن سے اس کے رنگ کا پتا چلتا ہے۔

    مرے سینے میں اے لوگو مرے کشمیر کا غم ہے

    مرے دل میں وطن تیری محبت شعلہ بنتی ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۴)

    کہیں سنی ، کہیں شیعہ ، کہیں دیوبند کا جھگڑا

    کہ میں نے فرقہ واریت کا وہ فتور دیکھا ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۳۷)

    کسے خبر تھی کہ ہوں میں بھی عشق کا مارا

    کہ ہم کو نیند نہیں رتجگوں نے لوٹا ہے

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۷۵)

    کچھ لوگ میرے شہر کے قارون تھے مگر

    اچکا کے لے گئی انھیں اندھی عدم کہاں

    (احسن سلیمان ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، ص۱۱۵)

    ظہیرؔ احمد مغل (۵ نومبر ۱۹۹۱ء)آزاد کشمیر کے ضلع حویلی میں جنم لینے والے ظہیر ؔاحمد مغل بھی شاعری میں سید شہباؔزگردیزی کے شاگرد ہوئے۔ظہیر اؔحمد مغل کے ہاں ادبی ذوق اس قدر ہے کہ وہ بیک وقت کئی ادبی تنظیموں سے وابستگی رکھے ہوئے ہیں۔ ظہیرؔ مغل آزاد کشمیر کی معروف ادبی تنظیم ’’طلوع ادب‘‘ کے معتمد نشرواشاعت ہونے کے ساتھ ساتھ افکار پاکستان کے آزاد کشمیرریجن کے معتمد بھی ہیں۔ ظہیر اؔحمد مغل نے اردو شاعری میں خاص پہچان  بنا لی ہے وہ آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں اپنے ادبی کارناموں کے باعث خاصے مقبو ل ہو رہے ہیں۔ نظم و غزل دونوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ظہیرؔ احمد مغل کا پہلا شعری مجموعہ ’’میرا چاند‘‘ کے نام سے زیر ِطبع ہے۔ ظہیر اؔحمد مغل کی شاعری اپنے وقت کا نوحہ ہے وہ اپنے احساسات کو بڑے خوب صورت انداز میں شعری قالب میں ڈھالتے ہیں۔ ان کا کلام ملکی اخبارات و جرائد کی زینت بنتا رہتا ہے۔ ظہیرؔ احمد مغل کے کلام سے کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:۔

    خواب جب ایڑھیاں رگٹرتے ہیں        

    اشک آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں ۴۶

    کبھی وہ یاد آجائے یا اس کا خواب آ جائے      

    کسی صورت بھی ہو وہ دو بدو تو شعر ہوتا ہے ۴۷

    کیسے دیکھوں میں اسے جی بھر کے        

    جی ہے آخر یہ بھر بھی سکتا ہے ۴۸

    ڈاکٹر ماجدؔ محمود(۱ جنوری۱۹۸۰ء) کاتعلق آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کی تحصیل پلندری ہے۔ آپ کے والد محمد حنیف خود تو زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن انھوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرتے ہوئے ان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔     ڈاکٹر ماجدؔ سدھن قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں یہ قبیلہ افغانستان کے قبائلی علاقوں سے برسوں پہلیآزاد کشمیر میں آ کر آباد ہوا۔

    ڈاکٹر ماجد ؔبچپن سے ہی بہت محنتی اور ذہین واقع ہوئے ہیں۔ اپنی شبانہ روزمحنت کے باعث وہ اپنی ابتدائی جماعتوں میں ہمیشہ اول آتے۔ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ ماجدؔ محمود زمانہ طالب علمی میں ایک اچھے مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ متعدد دفعہ بڑی سطح کے تقریری مقابلوں میں اول انعام کے حق دار ٹھہرے۔

    ماجدؔ محمود کی ابتدائی تعلیم پلندری سے ہی ہوئی بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے بی ایس سی اور ایم ایس سی زوالوجی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پیر مہر علی شاہ یونی ورسٹی راول پنڈی سے ۲۰۱۵ء میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد پونچھ یونی ورسٹی ، راولاکوٹ کے شعبہ زوالوجی میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 

    ڈاکٹر ماجدؔ اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی شعری ذوق رکھتے تھے۔ اسی ذوق کی تسکین کے لیے پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے باقاعدہ شاگرد ہوئے اور شعری رموز سیکھے۔ ڈاکٹر ماجدؔ نے شاعری کے ساتھ تنقید اور نثر میں بھی کسی حد تک کام کیا۔ یونی ورسٹی آف آزاد جموں وکشمیرمیں کئی اسٹیج ڈرامے لکھے اور انعام کے حق دار ٹھہرے۔ ڈاکٹر ماجد ؔمحمود کا کلام بے ساختہ اور سائنسی ادراک کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ زبان کے حوالے سے بھی خاصااہم ہے۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی اردو کی ادبی تاریخ پر بھی گہری نظر ہے۔ میرؔؔ ، غالبؔ ، داغؔ، فراز ؔتک سبھی شعرا کو شوق سے پڑھا جب کہ نثر میں مشتاق احمد یوسفی اور سعادت حسن منٹو کے مداح ہیں۔ ڈاکٹر ماجدؔ کی شاعری میں روایت کی واضح جھلک ملتی ہے۔ شوکت اقبال مصورؔ کے مطابق:

    ’’ماجد کی شاعری اپنے عہد کی ایک صاف آواز بن گئی ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے قطعی طور پر غافل نہیں۔  اس کا کلام اپنے ہونے کا خود پتا دیتا ہے۔‘‘۴۹

    ڈاکٹر ماجدؔمحمود آزاد کشمیر کے نئے لکھنے والوں میں ایک نمایاں آواز ہے۔ان کے اکثر اشعارمقبولیت حاصل کر چکے ۔ ملکی اور ریاستی سطح پر جانے جانے والے ماجد ؔمحمود کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا ایک شعر معروف غزل گو اور کالم نگار ظفرؔ اقبال نے اپنے کالم کا حصہ بنایا اور اسے پسندیدگی کا خلعت بخشا۔ظفر ؔاقبال اپنے کالم بہ عنوان ـ’’ سرخی، متن، ٹوٹے، ڈاکٹر ضیا الحسن اور ماجد محمود ماجد ؔکے اختتام میں لکھتے ہیں۔

    ’’اور اب چلتے چلتے پلندری سے ماجدؔ محمود کا یہ لاجواب شعر

    ہوس ہوتی تو پوری کر بھی لیتے   

    محبت تھی ، ادھوری رہ گئی ہے‘‘ ۵۰

    ماجد ؔمحمود نے غزل ہی کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور اس میں نام کمایا ۔ ماجدؔ محمود کی شاعری میں مزاج کی نرمی ، حسن و عشق کے مضامین، زبان کی سادگی ، روانی ،برجستگی اور صاف گوئی جیسی خصوصیات موجود ہیں۔ وہ زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ ہیں اورا ن ہی معاشرتی رویوں کو مضمون کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجدؔ کے چند اشعار بہ طور مثال دیکھیں۔

    لوگ نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرتے

    تجھ سے بچھڑ کر فوراً مرنا ٹھیک نہیں تھا ۵۱

    ممکن ہی کہاں ہ کہ کبھی تجھ کو بھلادوں

    رہتے ہے ہمیشہ مجھے گھیرے تیری خوش بو ۵۲

    اترنا پڑتا نہ پیغمبروں کو جنگوں میں

    اگر  سمجھتی یہ دنیا زباں محبت کی ۵۳

    ظہور ؔمنہاس (۱۵،مارچ ۱۹۹۶ء)آزاد کشمیر کے شعری ادب کا مستقبل نوجوان شاعر ظہورؔ منہاس کے صورت میں بھی روشن ہے۔ ظہورؔر منہاس کا پورا نام ظہورؔ اللہ منہاس ہے۔ ظہور ؔمنہاس آزادکشمیر کے ضلع مظفرآباد کے ایک خوب صورت گائوں گلی کھیتر، بھیڑی میں پیدا ہوئے۔ ابتدا سے مطالعے کا شوق رہا تا ہم۲۰۱۴ء؁ میں حصول ِمعاش کے لیے باغ گئے جہاں سید شہباز ؔگردیزی اور ظہیرؔ احمد مغل کی صحبت میں مشق سخن جاری رکھی ۔ ظہورؔ کے کلام میں نایاب ردیفیں اور اعلیٰ خیال اس کی خاص پہچان ہیں۔ ظہور ؔمنہاس کے ہاں کئی ایسے اشعار ہیں جو آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو چکے ہیں۔ اس کے کلام میں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں جو اس بات کی امکان ہیں کہ وہ کس قدر باصلاحیت تخلیق کا رہیں۔

    ہزار حیف ہے کوفہ کی وادیوں تم پر

    حسینؓ آنے سے پہلے ہی جل گئی ہوتیں ۵۴

    میرؔ، کشمیراور میں خود بھی    

    درد کے مستند حوالے ہیں ۵۵

    یہ کیا سادہ دلی تھی وصل میں جو

    کلائی کی گھڑی کو روک رکھا ۵۲

    بیجھی تصویر بھی تو آنکھوں کی 

    یعنی آنکھیں دکھا رہی ہو مجھے ۵۷

    آصف ؔاسحاق (۰۴،ستمبر ۱۹۸۰ء)کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی سے ہے۔ پروفیسر عبدالعلیمؔ صدیقی (مرحوم) کے ہونہار شاگردوں میں شمار ہونے والے آصف ؔاسحاق کے شعری ذوق کا پتا ان کا ہر ہر شعر دیتا ہے۔ایم ۔اے اسلامیات کرنے کے بعد پرائیویٹ امیدوار کے طور پر جامعہ آزاد کشمیرسے ایم اے اردوکیا اوراب علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھ رہے ہیں۔ آصف اؔسحاق بزم فکر وسخن پلندری کے نہایت فعال کارکن ہیں اور باقاعدگی سے ادبی نشستیں انعقاد پذیرکرواتے ہیں۔آصف ؔاسحاق کی شاعری بھی ان کے خوب صورت خیالات کا مجموعہ نظر آتی ہے۔ بہت کم لکھتے ہیں لیکن جو بھی لکھتے ہیں وہ سب انتخاب لگتا ہے۔ آصفؔ اسحاق کے لیے یہ اعزاز بھی کیا کم ہے؟ کہ ظفر ؔاقبال نے ان کے ایک شعر پر ان کو اپنے کالم کے ذریعے داد دی۔ ۱۱ جنوری ۲۰۱۷ء کے کالم میں ظفرؔ اقبال نے لکھا۔

    ’’ آصف ؔاسحاق کا پلندری سے یہ خوب صورت شعر موصول ہوا۔ آپ بھی سنیئے 

    اب دکھائی نہیں دیتا کہ کہاںرکھا تھا

    لوٹ آنے کے لیے ایک نشاں رکھا تھا

    مطلب یہ کہ عمدہ شعر کہیں بھی اور کسی پر بھی اتر سکتا ہے۔  امید ہے موصوف اپنے کچھ اور اشعار بھی بھیجیں گے۔‘‘۵۸

    ظفر ؔاقبال کا اعتراف بلاشبہ آزاد کشمیر کے اس شاعر کے لیے باعث فخر ہے ۔ آصف اؔسحاق کے کلام سے چند مزید اشعار دیکھیں:

    اگر لوح و قلم آصفؔ مجھ تفویض ہو جاتے

    محبت کے قلم سے میں فقط تیری ثنا لکھتا ۵۹

    کوئی آواز مقتل سے نکل کر    

    صدائے دہر ہوتی جارہی ہے ۶۰

    اے مرے شاہ! ملاقات کے قابل ہو ں کہاں 

    مجھ کو جگما ہی کرو تم سردربار طلب ۶۱

    جاویدؔ سحر(۲۶، جون ۱۹۸۰ء) جن کا اصل نام جاوید اقبال ہے مقبوضہ کشمیر کے ضلع سوپور میں پیدا ہوئے۔ نوے کے عشرے میں والدین کے ساتھ ہجرت کا دکھ اٹھایا اور آزاد کشمیر کے ضلع عباس پور میں سکونت  اختیار کی ۔ جاویدؔ سحر کا ایک گوجری مجموعہ ’’گھر‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷ء میں شائع ہو چکا ہے جب کہ اردو شعری مجموعہ’’ دستک‘‘ زیر طبع ہے۔ جاویدؔ سحر نے اردو سے محبت کا ثبوت ایم اے اردو کر کے دیا ۔ جاوید کی شاعری بھی امکانات کی شاعری ہے۔ ان کے کلام میں سے چند اشعار دیکھیں:

    ہزار درپیش اب وجد اندگی پیارے

    اگر یہ درد نہ ہوتے تو میں مر گیا ہوتا ۶۲

    ان دنوںبے خطر ملو مجھ سے 

    ان دنوں پارسا نہیں ہوں میں ۶۳

    ہمارے ہاتھ کی ریکھا میں صرف ہجرت ہے

    ہمارے ساتھ سفر پر اگر گئے  تو گئے ۶۴

    احمد وقارؔ(۷ اکتوبر ، ۱۹۸۶ء) کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع نیلم کے سرحدی گائوں لیسوا سے ہے۔ آپ کا پیدائشی نام وقار احمد میر ہے۔ لیکن ادبی حلقوں میں احمد وقارؔ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ احمد وقار ؔنے ابتدائی تعلیم لیسوا اور اٹھ مقام کے اداروں سے حاصل کی۔ جامعہ کراچی سے معاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ آزادکشمیر یونی ورسٹی مظفرآباد سے ایم ۔اے اردو کیا۔ احمد وقارؔ نے پی ایس سی کرنے کے بعد بہ طور لیکچرراپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اس وقت وہ گورنمنٹ ڈگری کالج شاردہ میں لیکچرر معاشیات خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ احمد وقارؔ نے اپنی فطری صلاحیتوں کی بدولت شعر وسخن سے بھی ناتا قائم رکھاہے۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کے لیے مقالہ لکھنے والے احمد وقارؔ نے شعرائے نیلم کا ایک انتخاب ۲۰۱۴ء میں شائع کیا۔

    احمد وقارؔ نے سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری میں بھی خود کو منوایا ہے۔ ان کی شاعری حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناہمواریوں کے گرد گھومتی ہے جیسا کہ پروفیسر فرزانہ ناز رقم طراز ہیں:

    ’’سماجی و معاشرتی مسائل و ناہموار یاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ محبوب سے اظہار محبت اور بے التفاتی کو مزاح کی چاشنی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔‘‘ ۶۵

    احمد وقار ؔضلع نیلم کے اچھی شہرت کے حامل شاعر ہیں جن کا اوڑھنا، بچھونا ادب ہی ہے۔ گھر میں ایک ضخیم لائبریری اس بات کا ثبوت ہے۔ مشتاق احمد یوسفی سے عقیدت کی حد تک محبت ہے۔ شاعری میں احمد فرازؔ، اقبالؔ ، فیضؔ، اور غالبؔ  ان کے پسندیدہ شعرا ہیں تاہم عصر حاضر کے نوجوانوں کا کلام بھی ان کے زیر مطالعہ رہتا ہے۔ احمد وقارؔ کے کلام میں سے چند اشعار بہ طور نمونہ دیکھیے۔

    دیکھ لو موت تلک ساتھ نبھایا ہے وقارؔ

    بھری دنیا میں ترا غم ہی ہمارا نکلا ۶۶

     صحرا بھی چھن گئے ہیں سرابوں کے ساتھ ساتھ

    آنکھیں بھی لے گیا ہے وہ خوابوں کے ساتھ ساتھ ۶۷

    آب دینے کی ضرورت نہ رہی قاتل کو

    تیغِ ابرو کے لیے میرا لہو کافی ہے ۶۸

    پروفیسر اعجاز ؔنعمانی(۱۲،مارچ ۱۹۶۹ء) کا اصل نام اعجاز احمد ہے۔ شبلی نعمانی کی نسبت سے نعمانی کا لاحقہ لگا گر اعجاز نعمانی کہلائے۔ اعجاز ؔنعمانی آزاد کشمیرکے شعری منظر نامے میں نمایاں نام ہے۔ غزل سے عشق کی حد تک لگائوہے۔ اعجازؔ نعمانی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں چکار سے حاصل کی۔ اپنے خالہ زاد پروفیسر ڈاکٹر افتخارؔ مغل سے اکتساب فیض حاصل کیا اور ابتدائی عمر سے ہی شعر موزوں کہنے لگے۔ اعجازؔ نعمانی نے ایم اے اردو آزاد جموںوکشمیر یونی ورسٹی سے کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس وقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد میں تدریسی فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اعجازؔ نعمانی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کے لیے مقالہ بھی لکھ رہے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ادبی ماحول کو اعجازؔ نعمانی نے خوب جلا بخشی ہے۔ آزاد کشمیر کی اہم ادبی تنظیم کشمیر لٹریری سوسائٹی جس کا موجود نام کشمیر لڑیری سرکل ہے کے بانی سیکرٹری ہیں اور تا حال اس عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔کشمیر لٹریری سرکل آزاد کشمیر کی ایک فعال تنظیم ہے جو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ۱۹۹۳ء سے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اکادمی ادیبات آف پاکستان کے آزادکشمیر میں فوکل پرسن کے طور پر بھی اعجاز ؔنعمانی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ۱۹۹۵ء سے ملکی سطح کے تمام بڑے رسائل و جرائد میں ان کا کلام باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اعجازؔ نعمانی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد کے مجلے ’’دومیل‘‘ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات بہم پہنچا رہے ہیں۔ جب کہ ان کے ادبی کالم ملکی سطح کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پروفیسر اعجاز ؔنعمانی جہاں ادب کے لیے اپنی خدمات سے بھی بھی گریزاں نظر نہیں آتے وہیں اپنے مجموعے کی اشاعت میں خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں۔آپ کا اولین شعری مجموعہ ’’کہے بغیر‘‘ کے نام سے اشاعت کے آخر مراحل میں ہے تا ہم آپ کا شعری انتخاب ’’اس گلی میں ہے بیل پھولو ں کی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۴ء میں اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔ اعجازؔ نعمانی کے کلام سے ان کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

    چاہے چھلنی ہو یہ مشکیزہ کہ پانی جائے

    جبر والوں سے مگر ہار نہ مانی جائے ۶۹

    حسن اور اتنی فراوانی کے ساتھ

    دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ ۶۰

    میں کیسے زندہ و مردہ میں امتیاز کروں

    بنے ہیں قبروں پہ اعجازؔ گھر زیادہ تر ۷۱

    اعجازؔ نعمانی کی شاعری موجود ہ عہد میں ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی مانند ہے جو قاری کو فرحت اور تسکین کی سر شاری عطا کرتی ہے۔ایم یامینؔ کے مطابق: 

    ’’ان کی غزل میں گائوں کی اداسی، شام کے اسرار اور صبح کے نور کے بھیگے ہوئے پھولوں کی شبنمی تازگی باہم آمیخت ہو گئے ہیں۔‘‘۷۲

    شوزیب کاشرؔ(۱۱ نومبر، ۱۹۸۶ء) کا اصل نام شوزیب صادق ہے۔آپ کا تعلق وادی پر ل راولاکوٹ کے گائوں بھیکھ سے ہے۔ شوزیب کاشرؔجب  دسویں جماعت میں تھے تواس وقت انھوں نے پہلا شعر کہا۔

    شوزیب کاشر کا پہلا مجموعہ ۲۰۰۲ء میں ’’ میں نے پیار بیچ دیا‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس وقت شوزیب کاشر ؔ صرف ۱۵پندرہ برس کے تھے۔ ۲۰۰۴ء میں نیشنل چلڈرن ڈے پر اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں مذکور ہ مجموعے کے لیے کم سِن صاحب ِکتاب ہونے پر شوزیب کاشر ؔطلائی تغمے اور سند ِاعزاز کے حق دار ٹھہرے۔ حکومت پاکستان کے جانب سے یہ اعزاز پا کر ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے جس کا ثبوت ۲۰۰۶ء میں ’’نوائے خضر‘‘ کی اشاعت ہے۔ اس کے علاوہ شوزیب کاشر کے زیر طبع مجموعوں میں ’’مسیحائی‘‘ اور ’’مجھے راستے میں نہ چھوڑنا‘‘جلد اشاعت پذیر ہوجائیں گے۔

    شوزیب کاشرؔ غزل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں نعت نگاری کے حوالے سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ پاک نے ان کو کلام کے ساتھ ساتھ آواز کی دولت سے بھی مالا مال کیا ہے جب ترنم سے پڑھتے ہیں تو محفل میں سکوت طاری ہو جاتا ہے اور محفل زعفران زر ہو جاتی ہے۔شوزیب کاشرؔ غزل کے داخلی پہلوئوں کے ساتھ ساتھ اس کے خارج پر بھی دھیان دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی سے آشنائی نے ان کی شاعری میں مزید نکھار پیدا کر دیا ہے۔شوزیب کا شرؔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ ان کا کلام محافل کی زینت بن چکا ہے اور ان کے بنا کوئی ادبی محفل ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ شوزیب کاشرؔ کے کلام میں سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

    کن کہوں اور کم ہو جائیں

    آدمی ہو کوئی خدا ہو ں کیا ۷۳

    مرے نبی ﷺ نے دی سدا دشمن جان کو بھی اماں

    بدلے کی آگ پالنا میری سرشت میں نہیں ۷۴

    زندگی بھوک کے ماروں کی نہ پوچھو کاشرؔ

    غم کی سولی پہ یہ ہر روز لٹک جاتی ہے ۷۵

    فاروق حسین صابرؔ(۱۰ جون ، ۱۹۶۵ء) کا تعلق بھی آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے۔ ایم۔ اے عربی اور ایم اے اسلامیا ت تک کی تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ فاروق صابرؔؔؔ چوں کہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے بن جونسہ کی جامع مسجد میں خطیب کی ذمہ داری بھی آپ نبھار ہے ہیں۔ آپ کے کلام میں معاشرے کے حساس پہلوئوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کسی محفل میں ہوں تو ان کا ترنم محفل میں ایک سحر کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ فاروق صابرؔؔ کا مجموعہ تا حال شائع نہیں ہو سکا تاہم وہ کئی رسائل اور شعری انتخابات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ فاروق صابرؔؔ کے کلام کے نمونے دیکھیں:

    دیواریں ملی ہیں ہر گھی کی پھر بھی ہیں جدا دل آپس میں

    اس شہر میں ہر اک تنہا ہے یوں لوگ ہزاروں رہتے ہیں ۷۶

    امیر شہر نے قبضہ کیا سب کے وسائل پر 

    خبطیب اپنی خطابت میں اس کا حق بتاتے ہیں ۷۷

    غلامی سے نکلتے ہیں زمانے ہیں وہی صابرؔؔؔ

    شعور و آگہی کے جو دیے پہم جلاتے ہیں ۷۸

    حوالہ جات

    ۱۔  وارث سرہندی(مرتبہ)،علمی اردو لغت،علمی کتب خانہ،لاہور،س،ن،ص۷۴۸۔

    ۲۔  عبدالحفیظ بلیاوی،ابوالفضل،مولانا،مصباح اللغات،ادارۃالعلم،نوشہرہ،جون۲۰۱۴ء، ص ۵۹۸۔

    ۳۔ حامد حسن قادری،تاریخ و تنقید،لکشمی نارائن اگر وال پبلشرز،آگرہ،طبع دوم ۱۹۴۷ء، ص۱۰۱۔

    ۴۔ رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر ،اصنافِ ادب،سنگِ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۱ء، ص۳۱۔

    ۵۔ محمود شیرانی ،حافظ،مقالاتِ محمود شیرانی،مظہر محمود شیرانی(مرتبہ)،مجلس ترقیٔ ادب،لاہور،۱۹۶۹ء،ص۴۸۔

    ۶۔ پریم ناتھ بزاز،پنڈت،تاریخِ جدو جہد آزادیٔ کشمیر،عبدالحمید نظامی(مترجم)،ویری ناگ پبلشرز،میرپور،۱۹۹۲ء، ص۲۲۹۔

    ۷۔ حبیب کیفوی،کشمیر میں اردو،اردو سائنس بورڈ ،لاہور،۱۹۷۹ء،ص۱۷۔

    ۸۔ محمد صغیر آسی،پروفیسر،شعرائے کشمیر،الفضل کتاب گھر،میرپور،اپریل ۱۹۹۳ء، ص۱۰۴۔

    ۹۔ ایضاً، ص۱۰۵۔

    ۱۰۔ ایضاً، ص۱۰۶۔

    ۱۱۔ ایضاً،ص ۳۷۲۔

    ۱۲۔ ایضاً،ص ۳۷۴۔

    ۱۳۔ ایضاً۔

    ۱۴۔ ایضاً۔

    ۱۵۔ ایضاً۔

    ۱۶۔ ایضاً،ص ۱۸۱۔

    ۱۷۔ مقالہ نگار کا رانا غلام سرور سے انٹر ویو ،بہ ذریعہ ٹیلی فون ، ۲۱،نومبر،۲۰۱۶ء،

    ۱۸۔ افتخار مغل(دیباچہ) قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،س،ن، ص۱۵۔

    ۱۹۔ قدرت اللہ شہاب(فلیپ) ،قرضِ سخن، نذیر انجم، ارشد بک سیلرز، میرپور،۔

    ۲۰۔ شہباز گردیزی، اجلی مٹی(انتخاب)،نکس پبلشرز،میرپور،مارچ ۲۰۱۵ء، ص۱۶۔

    ۲۱۔ ایضاً۔

    ۲۲۔ ایضاً،ص۱۷۔

    ۲۳۔ ایضاً،ص۱۸۔

    ۲۴۔ ایضاً،ص ۱۹۔

    ۲۵۔  ایضاً،ص ۲۶۔

    ۲۶۔ جمیل جالبی،ڈاکٹر(دیباچہ)، صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات،مظفر آباد، س۔ن، ص ۴۔

    ۲۷۔ جگن ناتھ آزاد(دیباچہ) ،صلیبوں کا شہر، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد،س،ن، ص ۵۔

    ۲۸۔ فرمان فتح پوری،ڈاکٹر(پیش لفظ)، صلیبوں کا شہر ، مخلص وجدانی، ادبیات، مظفر آباد، ص ۷۔

    ۲۹۔ لیاقت شعلان کا  مقالہ نگار کے نام خط، بہ تاریخ ۲۵،نومبر، ۲۰۱۶ء۔

    ۳۰۔ ایضاً۔

    ۳۱۔ ایضاً۔

    ۳۲۔ ایضاً۔

    ۳۳۔ جواد جعفری(پیش لفظ) ،احتجاج، ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،مظفر آباد، جون ۱۹۹۴ء، ص۵۔

    ۳۴۔ سحر انصاری، ایک کہنہ مشق شاعر(دیباچہ)، ہم سخن، ناز مظفر آبادی، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۱۵ء، ص۱۷۔

    ۳۵۔ محمد اظہار الحق، شاعرِ خوش امکان(دیباچہ)، خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء، ص۱۷۔

    ۳۶۔ وزیر آغا، ڈاکٹر (فلیپ) خاموشی کی کھڑکی سے،زکریا شاز،زریون مطبوعات،فیصل آباد، نومبر ۲۰۱۳ء۔

    ۳۷۔ افتخار مغل ، ڈاکٹر ، پروفیسر (فلیپ) ، خواب کون دیکھے گا ، سید شہباز گردیزی ، طلوع پبلی کیشنز ، باغ ، دسمبر ۲۰۰۸ء ۔

    ۳۸۔ ظفر اقبال ، شہسوار سخن(دیباچہ) ، ہمیشہ ،احمد عطاء اللہ ،ص ۱۷۔

    ۳۹۔ شہباز گردیزی ، سید (دیباچہ)، جھیل کا چاند، الطاف عاطف ، مہلب پبلی کیشنز ہائوس ، پسنی، ۲۰۱۲ء ۔ص۱۵۔

    ۴۰۔ زاہد کلیم (دیباچہ) ،لمحات نشتر ، نیلم پبلی کیشنز ، مظفرآباد ، نومبر ۲۰۰۲ء ، ص ۱۶۔

    ۴۱۔ مقالہ نگار کا زاہد کلیم سے انٹرویو ، ۱۲،نومبر ۲۰۱۶ء ، بہ مقام ریڈیو سٹیشن مظفرآباد۔

    ۴۲۔ مقصود جعفری ، ڈاکٹر ،ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خوا ب سے (دیباچہ) ،نئے اُجالے ہیں خواب میرے ،   اکرم سہیل ، جمہوری پبلی کیشنز ، لاہور ،۲۰۱۶ء ، ص ۱۱۔

    ۴۳۔ عبدالعلیم صدیقی، پروفیسر (دیباچہ) میں حرف حرف سمیٹوں ، شفیق راجا، طلو ع پبلی کیشنز ،باغ ،ستمبر ۲۰۰۳ء ، ص ۹۔

    ۴۴۔ ظہیر احمد مغل، احسن کا پہلا قدم (دیباچہ) ،مجھے تم سوچ کر دیکھو، احسن سلیمان ، حویلی پبلیشنگ ہائوس ، کہوٹہ، ستمبر ۲۰۱۶ء، ص ۱۵۔

    ۴۵۔ توفیق صدیقی ،رانا ، احسن کا احسن قدم ، مشمولہ روزنامہ جناح ، اسلام آباد ، ۱۹،جنوری ۲۰۱۷ء، 

    ۴۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۳۷۔

    ۴۷۔ ایضاً ، ص ۱۳۸۔

    ۴۸۔ ایضاً ، ص ۱۳۹۔

    ۴۹۔ مقالہ نگار کا شوکت اقبال سے انٹر ویو،بہ تاریخ،۱۶ دسمبر۲۰۱۶ء،بہ مقا م چھتر دومیل۔

    ۵۰۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۲۱ ستمبر ۲۰۱۶ء۔

    ۵۱۔ ڈاکٹر ماجد محمود ماجد کا خط بہ نام مقالہ نگار،۱۳ جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۲۔ ایضاً۔

    ۵۳۔ ایضاً۔

    ۵۴۔ ظہور منہاس کا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۱ جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۵۔ ایضاً۔

    ۵۶۔ ایضاً۔

    ۵۷۔ ایضاً۔

    ۵۸۔ ظفر اقبال،دال دلیہ،مشمولہ روزنامہ دنیا،لاہور،۱۱جنوری ۲۰۱۷ء۔

    ۵۹۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۵۵۔

    ۶۰۔ ایضاً،ص۵۶۔

    ۶۱۔ ایضاً،ص۵۷۔

    ۶۲۔ ایضاً،ص۷۷۔

    ۶۳۔ جاوید سحرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۰۳جولائی۲۰۱۷ء۔

    ۶۴۔ ایضاً۔

    ۶۵۔ فرزانہ ناز،پروفیسر، آزاد کشمیر میں طنز و مزاح ،علی پرنٹرز،میرپور،۲۰۱۴ء،ص۲۷۳۔

    ۶۶۔ احمد وقار(مرتبہ)،کہکشاں، نکس پبلی کیشنز،میرپور،۲۰۱۴،ص۳۴۔

    ۶۷۔ ایضاً،ص۳۵۔

    ۶۸۔ ایضاً،ص۳۷۔

    ۶۹۔ اعجاز نعمانی(مرتبہ)،اس گلی میںہے بیل پھولوں کی،الرزاق پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۵ء،ص۱۰۵۔

    ۷۰۔ ایضاً،ص۱۰۷۔

    ۷۱۔ ایضاً،ص۱۱۴۔

    ۷۲۔ ایضاً،ص۱۱۷۔

    ۷۳۔ شوزیب کاشرکا خط بہ نام مقالہ نگار،۲۳اکتوبر۲۰۱۶ء۔

    ۷۴۔ ایضاً۔

    ۷۵۔ ایضاً۔

    ۷۶۔ شہباز گردیزی ،سید ، اُجلی مٹی (انتخاب ) ، نکس پبلیشرز ، میرپور، مارچ ۲۰۱۵ء، ص ۱۵۶۔

    ۷۷۔ ایضاً،ص۱۵۸۔

    ۷۸۔ ایضاً،ص ۱۵۹

    .

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • بیک ڈور جنگ بندی

    بیک ڈور جنگ بندی

    Dubai Naama

    پنجہ یہود کمزور پڑ گیا ہے۔ اسرائیل نے جونہی تباہی کے مناظر ظاہر کیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی۔ جنگ کے دوران نیتن یاہو کی امریکی صدر پر مکمل گرفت تھی جو اب تقریبا ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ خلیجی جنگ کے دوران ایک امریکی عہدے دار کا یہ دلچسپ تبصرہ سامنے آیا کہ، "اسرائیل کو ٹرمپ جیسے صدر کو استعمال کرنے کے لیئے 40 سال تک انتظار کرنا پڑا۔” اس  جنگ میں صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ہاتھوں بہت بری طرح استعمال ہوئے۔ امریکی صدر کو ایران کے خلاف غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں جو ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیئے ناکافی تھیں۔ اس کے باوجود امریکی، صدر نے اسرائیلی صدر کی شہہ پر ایران پر دھاوا بولنے کی غلطی کی۔ کل جب اسرائیل نے اپنی تباہی کی وڈیوز جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ  کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کرتے ہوئے دنیا بھر سے مدد کی اپیل کی تو جنگ کے نتائج واضح ہو گئے، اور پھر یہ خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 5 دن کے لیئے سیزفائر کرنے کے لیئے راضی ہو گئے ہیں۔

    امریکی صدر کی آبنائے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑوانے کے لیئے یورپی اور عالمی اتحاد بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہد کا بھرم رکھنے کے لیئے جاپان سے اپنا طاقتور ترین بحری بیڑا یو ایس ایس ٹری پولی اور پانچ ہزار امریکی میرین ایران کی طرف روانہ کیئے لیکن ہرمز سے ایران پر حملہ کرنے میں بوجوہ تاخیر کی جو اس خلیجی جنگ کو بند کرنے کی امید لے کر آئی ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے لے کر ابھی تک ایک لمحہ کے لیئے بھی مایوس یا کمزور نظر نہیں آیا۔ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوا اور نہ ہی اپنے خلاف جارحیت کا جواب دینے سے پیچھے ہٹا۔

    ایران کی طرف سے معتدل مزاج علی لاریجانی کی جگہ خوفناک سخت گیر حسین دہقان کو سپریم سلامتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا جانا امریکہ اور اسرائیل کے لیئے واضح پیغام تھا کہ ایران اپنی بقا کی جنگ پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ تقرری جنگ کے ایک ایسے فیصلہ کن  مرحلے پر کی جب امریکہ آبنائے ہرمز پر بحری حملے کے بعد زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا جس میں ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ ایران کی سپریم کونسل اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو وینزویلا طرز کا آپریشن کر کے گرفتار کیا جائے اور اغواء کر لیا جائے۔ایران نے اس امریکی جنگی چال کو ناکام بنانے کے لیئے سپریم کونسل کا جارحانہ مزاج لیڈر حسین دہقان کو بنا دیا جس نے 1979ء کے اسلامی انقلاب میں اپنے زمانہ طالب علمی میں 54 امریکی سفارت کاروں کو 15ماہ تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس تقرری کے فوراً بعد ایران نے 4000 کلو میٹر دور ڈیگو گارشیا کے فوجی اڈے پر میزائل پھینک دیئے، اسرائیلی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کو اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی، اور اس کے فورا بعد پانچ دن کے لیئے عارضی جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا۔

    عالمی نظام کی تبدیلی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اگر حالیہ خلیجی جنگ چند ماہ یا چند سالوں کے لیئے بند ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں مستقل امن کا پیغام لے کر آئے گی۔ آبنائے ہرمز پر ایران نے فیس وصولی کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس سے ایران کا ریاستی نظم مزید مستحکم ہو جائے گا۔ دو بڑی طاقتوں کی شکست بذات خود مستقبل کے امن کی ضمانت ہے. ایران کی مستقل مزاجی نے عرب خلیجی ریاستوں کو بھی نئے دفاعی اتحاد بنانے کے بارے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سے اسرائیل کا ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا خواب بھی، وقتی طور پر ہی سہی، ماند پڑ گیا ہے کیونکہ ایران نے اسرائیل پر اپنی بقا اور سلامتی کا مضبوط ٹھپہ گاڑ دیا ہے۔

    امریکہ نے پہلی دفعہ کھل کر بے بسی کا اظہار کیا اور گڑگڑا کر آبنائے ہرمز کھلوانے میں دوسروں سے مدد کی اپیل کی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ سے ایک دن میں ایک ٹریلین ڈالر نکال لیئے گئے اور تاریخ میں پہلی بار امریکی ففتھ جنریشن اسٹیلتھ جنگی طیارہ "F35” کامیابی سے ٹریک، لاک اور ہٹ کیا گیا۔

    مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل و خودکش ڈرونز کے کامیاب حملوں کا سلسلہ دن رات جاری رہا۔ ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور امریکی و برطانوی مشترکہ اڈے پر بلیسٹک میزائل سے کامیاب حملہ  کر کے دنیا کے جنگی ماہرین کو حیران کر دیا۔ 

    بیک ڈور جنگ بندی

    ایرانی جوہری پروگرام کے 450 کلوگرام یورینیم سمیت میزائل و ڈرون کے زیرِ زمین شہر اب بھی محفوظ ہیں اور ایران کا عوامی ردعمل بتا رہا ہے کہ اسلامی حکومت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کے امن پسند مشیر کی جگہ اب انتہائی سخت گیر اور ماضی میں اسرائیلی و امریکی اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائینڈ حسین دہقان نے قیادت سنبھال لی۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے قبضے میں ہے اور دنیا گواہی دے رہی ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں اور ایران کے اندر اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ایرانی حملوں میں اعتراف شدہ 14 امریکی فوجی اور 20 اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ 260 سے زائد امریکی اور 3000 سے زائد اسرائیلی زخمی ہیں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یمنی مزاحمت کا بحیرہ احمر میں باب المندب بند کرنے کا اعلان متوقع تھا جبکہ دوسری طرف اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر کے ذریعے قبرص بھاگ گئی تھی اور بقیہ اسرائیلی رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 

    بلومبرگ کے مطابق 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے تھے اور خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں، تکنیکی اداروں اور تیل و گیس کے پلانٹس پر مسلسل حملوں نے مغربی معیشت کو بڑا دھچکا دیا، جسکی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور مزید اضافہ جاری ہے۔ نیٹو فوجی اتحاد اور پورے یورپ نے امریکہ کو سرخ جھنڈی دکھا دی جس سے امریکہ و نیٹو میں دراڑ پڑ گئی اور یورپی ممالک کے بعد سری لنکا جیسے کمزور ملک نے بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ سمیت امریکہ کی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی اور امریکی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاجاً استعفیٰ دینے کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

    لبنانی مزاحمت کا اسرائیل پر ایک دن میں تاریخ میں سب سے زیادہ 55 حملے ریکارڑ ہوئے ہیں اور اطلاعات آئی ہیں کہ حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہونے والا تھا۔

    امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ میں 100 ارب سے زائد ڈالر مالیت کے ریڈار تباہ ہوئے ہیں اور قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے امریکہ کو الگ سے سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بحرین میں امریکی نیوی کا 5واں فلیٹ ہیڈکوارٹر تباہ ہو چکا تھا جبکہ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس فورڈ میں ایرانی حملے (جسے امریکہ نے فوجی تھکاوٹ اور بغاوت کا نام دیا) کے بعد 30 گھنٹے سے زائد آگ لگی رہی جس میں تین فوجی زخمی ہوئے جو بعد میں مرمت کیلئے یونان روانہ کیا گیا اور یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایرانی حملے کے بعد 1000 کلومیٹر پیچھے فرار ہونے پر مجبور ہوا۔

    جبکہ پولینڈ، اٹلی، فرانس اور نیٹو افواج نے عراق سے مکمل انخلا کر دیا تھا جبکہ پاکستان، روس اور چین سمیت پوری دنیا کی عوام نے کھل کر ایران کی حمایت کی۔

    ستر ہزار امریکی شہری اور فوجی مشرق وسطی سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے خلیجی ریاستوں سے ایران پر حملے کے عوض 5 ٹریلین ڈالر مانگ لیئے۔

    پوری دنیا میں شیعہ سنی اتحاد قائم ہوا ہے اور استکبار و استعمار کا دیرینہ "لڑاؤ اور حکومت کرو” (Divide and Rule) والا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ مجبورا امریکہ کو چالیس سال کے بعد روسی و ایرانی تیل سے پابندیاں ہٹانی پڑی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے اربوں ڈالر کے معاشی و فوجی اثاثے اب تک تباہ ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے کے لیے ایران کو 2 ملین ڈالر ٹول ٹیکس چائنیز کرنسی یوآن میں اب تک ادا کیا جا چکا ہے۔

    اس خلیجی جنگ کو جو روکنا چاہ رہے تھے یا اور جو کرانا چاہ رہے تھے وہ سب امریکی کیمپ کا حصہ تھے جبکہ ایران کے کیمپ میں موجود روس اور چین سمیت کوئی بھی صلح صفائی کی بات نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی انہیں جنگ روکنے کی کوئی اتنی جلدی تھی۔ امریکہ یہ بات سمجھ گیا تھا کہ یہ محوری طاقتیں دہرا معیار اپنا کر کیا حاصل کرنا یا کسے گرانا چاہتی ہیں؟ اس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کی طرف دیکھا اور پھر مستقل  جنگ بندی کی بیک ڈور پالیسی کا آغاز کر دیا۔

    ۔

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • مینڈا کنگھی شیشہ

    مینڈا کنگھی شیشہ


    تبصرہ نگار: سید حبدار قائم 

    مینڈے پیارے تے مِٹھے ماما جی سید ثقلین انجم ہوراں نی پہلی شاعری نی پنجابی کتاب “مینڈا کنگھی شیشہ” جمالیات پبلشرز اٹک نے شائع کر دتی اے
    پروفیسر غلام ربانی فروغ، مشتاق عاجز تے حسین امجد نی کتاباں توں بعد ای او کتاب اے جس وچ جمالیاتی رنگ دسنے پیئن تے اے کتاب پنجابی ادب وچ اک وکھری تے سیاپُل جوہدی اے جیہڑی نہ صرف ماں بولی زبان نی مٹھاس نوں اجاگر کرینی اے بلکہ کیمبلپوری لہجے نی ثقافتی خوشبوآں وی زندہ کرینی اے۔ ایہ کتاب پڑھدے ہوئے قاری نوں محسوس ہونا اے کہ اوہ صرف لفظاں نا مجموعہ نہیں بلکہ اک پورا زمانہ، اک رہن سہن تے اک بولی نی اصل روح نے سامنے آ کھلوتا اے۔
    سب توں پہلے جیہڑی گل قاری نی توجہ چھکینی اے او انج اے کہ اس کتاب وچ ورتے گئے متروک الفاظ ن۔ اج نے دور وچ جتھے پنجابی زبان تیزی نال سادہ تے محدود ہونی وینی اے، اُتھے سید ثقلین انجم نے اوہ لفظ زندہ کیتن جیہڑے ہُن لگ بھگ ختم ہون دے قریب ن۔ ایہ لفظ نہ صرف زبان نی وسعت نا پتا دینن بلکہ پرانے لوک جیون، رسم و رواج تے جذباتی اظہار نوں وی نمایاں کرینین۔ قاری ناجدوں انہاں لفظاں نال واسطہ پوناں تاں اُساں محسوس ہونا کہ اوہ اپنے بزرگاں نی بولی سنڑناں پیا اے۔
    کتاب نا لہجہ کیمبلپوری پنجابی اے، جیہڑا اپنی مٹھاس، نرمی تے مخصوص آہنگ نی وجہ توں باقی لہجیاں توں الگ پہچان رکھنا اے۔ اس لہجے نی خاصیت اے کہ ای نہایت سادہ ہوون نے باوجود وی گہرائی رکھنا۔ شاعر نے اس لہجے نوں نہایت مہارت نال ورتا اے جس نال شاعری وچ روانی تے فطری حسن پیدا ہو گیا اے۔ ایہ گل صاف نظر آندی اے کہ لکھاری نوں نہ صرف زبان تے عبور اے بلکہ اوہ آپڑیں علاقے نی تہذیب تے روایت نال وی گہرا تعلق رکھنا اے۔
    “مینڈا کنگھی شیشہ” نی شاعری وچ تصویر کشی نا عنصر بڑا مضبوط اے۔ ہر نظم، ہر مصرعہ قاری نے ذہن وچ اک واضح تصویر بنا دینا۔ کدی دیہاتی زندگی نے منظر، کدی محبت نے نرم جذبات، تے کدی وقت نی بےثباتی
    ہر موضوع نوں نہایت خوبصورتی نال پیش کیتا گیا اے۔ شاعر نی زبان سادہ اے پر اثر انگیزی ایسی کہ قاری دیر تک انہاں لفظاں نے سحر وچ گرفتار راہنا۔

    مینڈا کنگھی شیشہ


    اس کتاب نا اک اہم پہلو ایہ وی اے کہ ایہ صرف شاعری نا مجموعہ نہیں بل کہ ثقافتی دستاویز وی اے۔ اس وچ پنجابی دیہات نی زندگی، لوک روایتاں، بول چال، تے جذباتی انداز نوں محفوظ کیتا گیا اے۔ اج نے جدید دور وچ جتھے لوک اپنی مادری زبان توں دور ہونے وینن، ایہ کتاب اُناں نوں اپنی جڑاں نال جوڑن نی کوشش بی اے۔
    شاعری نے اعتبار نال وی ایہ کتاب نہایت مضبوط اے۔ قافیہ، ردیف تے بحر دنا استعمال نہایت سلیقے نال کیتا گیا اے۔ کدرے وی مصنوعی پن محسوس نہیں ہونا بلکہ ہر چیز قدرتی انداز وچ وگنی محسوس ہونی اے۔ ایہ گل ثابت کرینی اے کہ سید ثقلین انجم نہ صرف زبان نے ماہرن بلکہ شاعری نے اصولاں تے وی مکمل دسترس رکھینن۔
    کتاب وچ محبت، یاداں، جدائی، وقت دی گردش تے انسانی احساسات نوں بڑے خوبصورت انداز وچ بیان کیتا گیا اے۔ خاص طور تے محبت نے موضوع نوں شاعر نے نہایت نفاست نال چھیڑیا اے۔ نہ اوہ ضرورت توں زیادہ جذباتی ہونن تے نہ ہی خشک بل کہ اک درمیانہ راستہ اختیار کرکے قاری نے دل نوں چھو گھینن۔
    آخر وچ ایہ کہنا بجا وے کہ “مینڈا کنگھی شیشہ” پنجابی ادب وچ اک قیمتی اضافہ اے۔ ایہ کتاب نہ صرف زبان نے شائقین واسے بلکہ اوہناں لوکاں واسے وی اہم اے جیہڑے اپنی ثقافت، روایت تے اصل پہچان نوں سمجھنا چاہنن۔ سید ثقلین انجم نے اس کتاب نے ذریعے ایہ ثابت کیتا اے کہ پنجابی زبان اج وی زندہ اے تے اگر اس نوں خلوص تے محبت نال لکھیا جائے تاں ایہ دلان تک پہنچن دی پوری صلاحیت رکھینی وے۔
    ایہ کتاب واقعی اس گل نی مثال اے کہ اصل ادب اوہ ہونا اے جیہڑا وقت نی قید توں آزاد ہووے تے نسل در نسل منتقل ہوون نی طاقت رکھدا ہووے۔
    چھیکڑاں تے ای گل وی تڈے نال کرنی اے جے ثقلین انجم ایہہ کتاب ماں بولی نی خدمت واستے چھاپی اے۔ لوکاں نی منت کرنا واں اس کتاب آں اول و آخر پڑھن تے آپنیاں دھئیاں پتراں پوتریاں دھوہتریاں پڑھ کے سناون
    اس دعا نال اجازت دیسو جے اللہ پاک ثقلین انجم دے رزق اور عمر وچ اضافہ فرماوے جے او ماں بولی نی ہِنجے خذمت کرنے روّن۔آمین

    .

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    Dubai Naama

    پوری دنیا کی نظریں ایران کے کنٹرول میں موجود آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں۔ 33 کلومیٹر کی اس تنگ آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات اور نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند دنوں کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں سو ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں سے روزانہ دنیا کے استعمال کا 20 فیصد سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی عالمی منڈی بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ تازہ ترین تجارتی سیشن کے دوران عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 7 سینٹ اضافے کے بعد 3.79 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ خلیج میں جاری اس جنگ میں آتی شدت اور اس کے عالمی معیشت پر پڑتے اثرات کو دیکھ کر دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ عالمی سیاسی اور معاشی تجزیہ کار بھی حیران و ششدر ہیں کہ آخر اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا، جنگ کب بند ہو گی اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا۔

    ایران آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور وہ صرف انہی ممالک کے آئل ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جن سے اس کے اچھے تعلقات ہیں یا جن سے وہ اپنی پیشگی شرائط منوا لیتا ہے۔ ہرمز کی بندش کے بعد ابھی تک صرف پاکستان اور فرانس کو وہاں سے تیل بردار ٹینکرز گزارنے کی اجازت ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اس جنگی چال سے کافی گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو ایران کے قبضے سے کیسے چھڑایا جائے۔ اب امریکہ جنگ کی فتح اور شکست کا انحصار کافی حد تک آبنائے ہرمز کو ایرانی قبضے سے چھڑانے پر کر رہا ہے۔

    گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اپنے یورپی اتحادیوں سے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑانے کے لیئے بحری جہاز بھیجنے کی درخواست کی تھی جس میں انہیں کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ ایران کی طرف سے اس نئی افتاد کی وجہ سے کافی جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور یورپی اور نیٹو ممالک کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی چین اور روس سے بھی التجا کر ڈالی کہ وہ ہرمز کو کھلوانے اور امریکہ کی مدد کرنے کے لیئے خلیج فارس کے پانیوں میں اپنے بحری لڑاکا بیڑے روانہ کریں، اور وہاں سے بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے پوری دنیا سے انکار سننا پڑے گا، اور ساتھ میں ذلت بھی اٹھانی پڑے گی۔ دنیا کی بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، سپین، آسٹریلیا، کنیڈا، اٹلی، چین اور روس وغیرہ نے صاف انکار کر دیا، بلکہ امریکہ جو آج تک خود کو بلاشرکت غیرے سپر پاور سمجھتا آ رہا تھا کو ہر ایک نے "ہرگز نہیں” (Absolutely Not) کہہ کر رسوا کیا۔ امریکہ کو بڑے پیمانے پر ایسی رسوائی پہلی بار دیکھنا پڑی ہے۔

    آبنائے ہرمز میں ڈوبتا ٹائیٹینک

    امریکہ ایک عرصہ تک یورپین اتحادیوں کی پشت پناہی سے دنیا پر دھونس جماتا رہا مگر آج یکے بعد دیگرے انہوں نے نہ صرف  امریکہ سے منہ موڑ لیا ہے بلکہ اسے دنیا بھر کے سامنے ذلیل بھی کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا، "آبنائے ہرمز کو کھلوانا آسان نہیں، اس کے لیئے ایران سے معاہدہ کرنا ہو گا۔” جرمنی نے ایران جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا اور جرمن وزیر دفاع نے بیان جاری کیا کہ، "یہ ہماری جنگ ہے نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا۔ امریکی دباو’ کے باوجود جرمنی اپنے بحری بیڑے مشرق وسطی نہیں بھیجے گا۔” فرانسیسی جنرل یاکوف لیف نے امریکہ کو ٹکا سا جواب دیا بلکہ جنگ میں ممکنہ امریکی شکست کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ، "امریکہ ہم سے مدد مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اس کی ناکامیوں کی قیمت بھی ادا کریں۔ آج ٹرمپ کے اتحاد میں شامل ہونا ایسا ہے جیسے ٹائی ٹینک کے آئس برگ سے ٹکرانے کے اگلی شام اس پر ڈنر اور رقص کے ٹکٹ خریدنا۔”

    آبنائے ہرمز کا ایران سے  قبضہ چھڑانا ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں ایک اہم ترین موڑ یعنی "ٹریننگ پوائنٹ” (Turning Point) ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔یورپی دنیا اس جنگ میں واضح طور پر امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکی ہے جس کے بعد  امریکی صدر اسے بدعائیں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو کہا، "تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا۔”

    برطانیہ کے وزیراعظم نے تو ٹرمپ کو باقاعدہ بے عزت کیا تھا جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، "ہم یاد رکھیں گے۔” امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے بحری جنگی بیڑے مانگے تھے جس پر سب نے انکار کر دیا۔ امریکہ کے لیئے وقت بدل چکا ہے۔ یہ جنگ کا کمبل امریکی صدر ٹرمپ نے کسی سے مشاورت کیئے بغیر صرف نیتن یاہو کی شہہ میں آ کر خود پر اوڑھا تھا جو اب اس کے گلے پڑ گیا ہے۔

    اس جنگ کو امریکہ نے چھیڑا اس کا انجام بھی امریکہ ہی بھگتے گا۔ امریکی اڈے جو کبھی دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے اب ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی ملک اپنی سرزمین امریکہ کو دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اتحادی ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا ہے جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکہ اسرائیل مخالف ہو یا جسے ایران اجازت دے۔

    امریکہ نے اسرائیل کے بہکاوے میں آ کر بلاوجہ ایران پر جنگ مسلط کی اور اپنے سارے مخلص اتحادی  کھو دیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے نہ ملنے کی ناکامی کے بعد  مایوسی کے عالم، اور خود کو تسلی دینے کے لیئے ایک بیان میں کہا ہے، "جن کے آبنائے ہرمز میں جہاز پھنسے ہیں وہ خود نکالیں، امریکہ کے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں ہے۔” ایسا لگتا ہے کہ امریکی سپریمیسی کا ٹائی ٹانک آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    Dubai Naama

    مسلم دنیا کو اپنے گھر کے اندر کا خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسرائیل سے باہر دنیا میں سب سے زیادہ یہودی ایران میں پائے جاتے ہیں۔ ان یہودیوں کے ساتھ کچھ ایرانی مسلمان بھی ملے ہوئے ہیں جو گذشتہ اور موجودہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ کو خفیہ مخبری کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل امریکہ کو ایران کے سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنائی کو شہید کرنے کا موقع مل گیا۔ جس جرنیل کو ایران نے گرفتار کیا اور جو 28 فروری 2026ء کے پہلے اسرائیلی حملے اور سید علی خامنائی کی شہادت سے تھوڑی دیر پہلے نکل گیا تھا، اس کا اوپر نیچے تک پورا نیٹ ورک تھا جس پر ابھی تک ایران ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میر جعفر  صادقوں کی پہلے بیخ کنی کی ہوتی تو ایران کو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اب بھی وقت ہے کہ ایران اور دیگر مسلم دنیا اپنے گھر کو ٹھیک کرے اور اپنے اتحاد و اتفاق کو مضبوط کرے۔

    ہمارے اسلامی داعی اور  مبلغین دنیا کے مقابلے میں آخرت کے اجر و ثواب پر زیادہ زور دیتے ہیں، حالانکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق دنیا اور آخرت دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ سورۃ البقرہ (آیت 201) میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو سکھاتا ہے کہ، "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر”۔ قرآن پاک کی اجتماعی تعلیمات کی روشنی میں بھی، "مومن وہ ہے جو دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے۔” دنیا کی کامیابی پہلے آتی ہے یعنی آخرت کی کامیابی دنیا کی کامیابی و کامرانی سے مشروط ہے۔ یوں پائیدار کامیاب مومن مسلمان وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے، ان کے لیے دونوں جہانوں میں کامیابی ہے۔ ہمارے علمائے عظام نے مقابلتا دنیاوی تعلیم کو فوکس کیا ہے اور نہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے اسلامی عقائد کو زریعہ بنایا ہے۔

    عموما سائنسی علوم اور  قوانین کی بنیاد "تحقیق اور تشکیک” پر ہے۔ مسلم دنیا کا المیہ ہے کہ وہ اسلامی عقائد پر کامل یقین اور فرائض کی دن رات ادائیگی اور عبادات  کے باوجود سائنسی اور تجرباتی تحقیق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ تحریر و تحقیق سے دوری کی وجہ سے ہم حق و باطل کی پہنچان سے بھی دور ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مسلمانوں کا "اندھا اعتقاد” جہاں ہمیں دنیاوی سمجھ بوجھ سے دور کر رہا ہے وہاں ہم اپنوں پر غیر ضروری اعتماد کی وجہ سے غداری کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ 

    حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    مسلمانوں کو اپنے اندر ہی غدار آسانی سے مل جاتے ہیں۔ "گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے”، کے مصداق یہ غدار اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہر وقت منڈی میں سستے داموں بکنے کے لیئے تیار رہتے ہیں۔ انہیں جب بھی کوئی اچھا خریدار مل جائے یہ بک جاتے ہیں اور اپنے ہی اسلامی بھائیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ گھر کے بھیدی غدار لیبیا، عراق، شام، یمن، ایران اور افغانستان میں کھلے عام بکتے رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو تباہ کروانے کیلیے مسلمان ملکوں میں ان غداروں نے امریکہ کی سہولت کاری کی جو کہ ایک انتہائی شرم کا مقام ہے۔ ہمارے اسلامی ممالک کے ان غداروں کا بس چلے تو یہ امریکی صدر ہی کو اپنا مذہبی پیشوا بنا لیں۔ غداروں کی اس کھیپ نے امریکہ کو مشرق وسطی میں غنڈہ گردی کرنے کا موقعہ فراہم کیا یے۔ امریکہ نے اپنے علاوہ اسرائیل کی صورت میں بھی خطے میں ایک بدمعاش پال رکھا ہے جو آئے روز پہلے غزہ اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا تھا اور اب امریکہ کے اشتراک سے ایران پر جنگ کے ذریعے "انسانی بحران” پیدا کر رہا ہے۔

    حالیہ ایران، اسرائیل امریکہ جنگ ہند میں  اسلامی تاریخ کی غداری سے ملتی جلتی ہے۔ میر جعفر صادق ہماری تاریخ کے گھناؤنے ترین کردار ہیں جنہیں ہماری تاریخ کبھی معاف نہیں کر سکتی ہے۔ یہ غداری کے دو تمثیلی ہی نہیں بلکہ حقیقی کردار ہیں جن سے ہم آج بھی حد درجہ نفرت کرتے ہیں لیکن ہماری شومئی قسمت دیکھیں کہ ان سے ملتے جلتے کرداروں ہی نے ایران کے لیئے مخبری کی۔ اس خلیجی جنگ میں ایران کو نقصان پہنچانے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے ذمہ دار بھی یہی اندر کے غدار ایرانی ہیں۔ میر جعفر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کی اور انگریزوں کے ساتھ ساز باز کر کے بنگال پر انگریزوں کی حکومت قائم کرا دی۔ میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج کا سپہ سالار تھا، جس نے 1757ء کی "جنگ پلاسی” کے دوران نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کر کے غدار کے لقب سے شہرت پائی۔ میر جعفر کا پورا نام میر جعفر علی خان بہادر تھا جو متحدہ ہندوستان کی ریاست متحدہ بنگال میں غداری کے ذریعے نواب بنا تھا۔ غداری کی قیمت پر حاصل کی گئی ایسی نوابی پر آج میں درد دل مسلمان لعنت بھیجتے ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک بنگال پاکستان کے حصے میں آیا جو اپنوں کی غداری سے آج بنگلہ دیش بن چکا ہے، جبکہ دوسرا بنگال جسے مغربی بنگال کہتے ہیں وہ آج بھی بھارت کی اہم ترین ریاست ہے۔ یہ آپسی غداری پورے برصغیر کو غلامی میں جکڑنے کا سبب بنی تھی۔ میر جعفر نے برصغیر میں  مسلمانوں کو غلامی کی دلدل میں دھنسانے کا دروازہ کھولا تو چند ایرانی غداروں نے امریکہ اور اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے ایران کو امریکہ کی غلامی میں لانے کی ناکام کوشش کی۔ میر صادق کا تعلق جنوبی ہند سے تھا جو ٹیپو سلطان کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے آقا یعنی ٹیپو سلطان سے غداری کی۔ وہ صرف زمین، جائیداد اور دولت کے لیے انگریزوں کا آلہ کار بن گیا تھا اس نے ٹیپو سلطان کے اہم خفیہ راز انگریزوں کو پہنچائے۔ اس غدار اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے میسور میں ٹیپو سلطان کی سلطنت انگریزوں کے قبضے میں چلی گئی۔ ایران میں غداری کی جو بدنما تاریخ رقم ہوئی اس نے میر جعفر صادق کی تاریخی غداری یاد دلا دی ہے۔ اگر مسلم دنیا متحد ہو جائے اور اس میں ایسے غداروں کا بھی قلع قمع ہو جائے تو اب بھی مسلم دنیا دوبارہ "سپر پاور” بن سکتی ہے۔ مفکر اسلام اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے ایسے ہی کرداروں سے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، "جعفر از بنگال و صادق از دکن، ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • سجدہ دی حقیقی شاعری 

    سجدہ دی حقیقی شاعری 

     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )

    سب توں پہلے مقبول ذکی مقبول مبارک باد دے حق دار ہِن مبارک باد پیش کرینداں کیوں جو ایں اوکھے تے مصروف دور دے وچ اے جائیں کتاب ٫٫ سجدہ ،، لکھی ہے تے با ذوق لوگاں توں داد آفرین وی گدھی ہے بھئی اے اُو وقت ہے جو کہیں کُوں سر کھݨ دا ٹائم  وی کوئی نئیں مقبول ذکی اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے چھپا کے اے ثابت کیتائے جو منکیرہ دی سر زمین تے وی کوئی عاشقِ محمّد و آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم موجود ہے ۔ پیاری شاعری ہے ۔ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ دی اے عطا تھائی ہے ورنہ کوشش روز نال اے چیز نئیں ملدی ۔

    کیڈا پیارا شعر لکھائے مقبول ۔

    علی مرتضیٰ ؑ دا توں بچڑا امام اے

    زمانہ بھجیندائے درود و سلام اے 

    مقبول ذکی مقبول ہک اچھا ادیب تے اچھا انسان وی ہے ۔ منکیرہ ( بھکر ) دی پہچاݨ بݨ گئے ہِن شاعری دے حوالے نال میں بندہ حقیر ہک چھوٹا جیا مولا حضرت امام حسین علیہ السّلام دا ذاکر ہاں ہک مقام تے دوران مجلس میں مقبول ذکی مقبول دا اے شعر پڑھا ہے اچھی خاصی داد ملی ہے ۔

    نال روضے دے بہہ نعت لکھدا راہواں 

    ڈیھنہ او آوے دعائیں میں منگدا راہواں 

    پاک محفل سجے عرشی فرشی آون 

    میکوں رنگ لگ ونجن نعت پڑھدا راہواں 

    اوں ویلے میڈے دل وچوں دُعا نکلی ہے اللّٰہ پاک قلم وچ ایں توں زیادہ اثر عطا کرے آمین 

    سجدہ دی حقیقی شاعری

    دیکھو کتنی عقیدت و محبّت ہے اللّٰہ تعالیٰ تے اُوندے پاک رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نال ۔ اہلیانِ  منکیرہ دے باذوق لوگاں دی اکھ کھُل گئی ہے جو ساڈی دھرتی تے وی ایجھیں ادیب لکھاری موجود ہِن ۔ حالانکہ پہلے وی بہوں سارے شاعر اتے ادیب ہِن جیوں سعید احمد حاشر ، محمّد اقبال بالم ، علی شاہ ( مرحوم ) میڈا پیو زوار سرفراز فقیر (  پیدائش 1933ء ۔  وفات 12 اگست 2008ء ) اووی شاعر و ادیب ہَن ۔ لیکن اُنہاں شاعراں اپنا کلام شائع نئیں کیتا اگر کیتا ہے تاں لوگاں کُوں کوئی خاص علم نئیں میں تاں اے چاہنداں ہاں ۔ اہلیانِ منکیرہ دے وچ زیادہ توں زیادہ شاعر پیدا ہون تاکہ عوام نِندر  کنوں بیدار تھیوے

    جیویں جو علامہ ڈاکٹر محمّد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمائے گئے ہِن 

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 

    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    اِسے شعر دے مصداق ہِن مقبول ذکی مقبول اللّٰہ کرے اے حوصلہ قائم و دائم رہوے اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، سرائیکی رثائی ادب وچ اضافہ ہے حالانکہ ضلع بھکر ادب دی دھرتی ہے بہوں اچھے تے بزرگ قابلِ تعریف شاعر تھی گزرن جویں جو بابائے ذاکری بابا سید سید علی شاہ چھینوی ،  چھیناں والے ، سید غلام حسن شاہ تائب ، غلام سکندر خان غلام  موجودہ دور وچ سائیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، بئے وی کافی شاعر ہِن ۔

    مذہبی شاعری مجموعہ ٫٫ سجدہ ،،

      دے وچ حمد ، نعت ، سلام ،، منقبت ، قصیدے ، مرثے ، ڈوہڑے ، اے ثابت کریندِن کہ مقبول ذکی مقبول ہک عظیم مذہبی عقیدت رکھڑ آلے امن پسند شاعر ہِن ایندے قلم و فکر وچ اللّٰہ پاک ہور برکت پاوے ۔

    دیکھو قرآن کریم یعنی کلام اللّٰہ ہک مکمل ضابطہ حیات ہے اِس دے وچ کوئی شک و شبہ دی گنئش نئیں کیا خوب ( سُورۃ فیل) دی ترجمانی کیتی ہے ۔

    اپݨے گھر دی مالک تئیں تاں آپ حفاظت کیتی ہے 

    چھوٹے چھوٹے پکھواں کولوں ہاتھیاں کُوں مروایا ہے 

    اے ہݨ دیکھو کیا سوہݨی گاہل لِکھی میں اے آدھا ہاں واقعی مقبول مقبول ہے میں ہک مجلس وچ اے حمد پڑھڑی ہے وڈی داد ملی ہے تاں میکوں اندازہ تھی گئے جو مقبول ذکی مقبول دی شاعری وچ وزن ہے ۔ وَل جڈاں میں سجدہ پڑھئے 

    نظم سجدہ 

    سجدے دے وچ ربّ دا عاشق 

    خنجر گل تے رکھا فاسق 

    سارا عالم ویݨ کریندائے

    ہائے ہائے ساڈا رہبر صادق 

    عرشی ، فرشی کُل نبیاں ؑ نے 

    بیا ڈِٹھا سجدہ خالق 

    نیزے تے وی پاک تلاوت 

    اصلی اے قرآنِ ناطق 

    ڈیکھ شہادت رنگ بدلا گئے 

    کربل ، سورج ، مغرب ، مشرق 

    شعر لکھاں میں آلِ نبی ؐ تے 

    اللّٰہ میکوں کر چا لائق 

    چوڈاں ؑ دا بس نپ گھِن دامن 

    توں مقبول جو تھی ونج حاذق

    اتھاں میں ہُݨ مجبور ہاں جو کیوں میں اِس کلام دی تعریف نہ کراں تاریخِ اسلام میڈے سامݨے ہے ۔ بابے آدم علیہ السّلام توں گھِن کے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک کہیں نبی ( صہ) نہ ایجھاں سجدہ ڈتئے نہ وَل قیامت تک کوئی ڈیسی ذکی جویں جو اے سلام پاک حسین علیہ السّلام تے لکھائے ۔

    سلام 

    دینِ حق کوں عظمت بخشی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    محشر توڑیں روشن راہسی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    پاک نبی ؐ دی پگ اطہر ہے آقا تیڈے سر اطہر تے 

    دینِ حق دا توں ہیں بانی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    کیتا کل سنسار معطر تیڈے پاک لہو اے مولا 

    خوشبو محشر توڑیں آسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    قاسم ، اکبر ، اصغر بچڑے کُس گئے سارے کربل آخر 

    تیڈے صبر دی شان نرالی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    اوکھا سجدہ کربل تیڈا سجداں دی او شان بݨا گئے 

    جگ دے سجدے بچ گئے باقی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    دامن تیڈا جئیں ہے نپیا اُس دا بیڑا پار ہے مولا 

    حوضِ کوثر تے او ویسی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    تیڈی پاک کریمی ایجھئیں حُر ؑ   کوں تئیں ہے بخشی عظمت 

    جگ تے اوندی شان ہے بݨ گئی مولا پاک حسین ؑ ہیں توں 

    کفر دا ملیا میٹ تئیں کیتا کل ایمان دا بچڑا توں ایں 

    تیڈی عظمت ہے لاثانی مولا پاک حسینؑ ہیں توں 

    کیا خوب صورت سلام تُساں ملاحظہ کیتئے  شاعر آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ، مقبول ذکی مقبول تے ایہا عقیدت ہے جہڑی سینہ چیر کے باہر نکل آندی ہے گاہل خق اے جو حق کوں جتنا دبایا ونجے اُتنا ہی ابھردائے ۔

    میں اپݨے پاروں ہک شعر لِکھداں مقبول ذکی مقبول واسطے 

    مقبول  دی  شاعری  پڑھ  کرائیں 

    گونگے کوں وی بولݨ دا ڈھنگ آونجے

    قارئین کتاب ٫٫ سجدہ ،، کوں پڑھݨ دی  میڈے سنگتیاں  خواہش ظاہر کیتی ہے جیندے وچ سید نیاز عباس شاہ اُنہاں پڑھݨ دا شوق ظاہر کیتئے بیا کافی لوگ ہِن ۔ جہڑے اے گاہل آ دھے پئے ہن تے میں وی سݨا ہے جو مقبول ذکی بہوں اچھے شاعر ہِن بندہ وی عظیم ہے اچھا اخلاق وی ہے حالانکہ او صحت دے شعبہ نال وابستہ تھی کے ڈُکھی لوگاں دی مرہم پٹی کریندے ہے تے او بیا شاعری دے ذریعے ڈُکھی  انساناں دے روحاں دی وی دوا وی کریندے ہے اے بہوں وڈا شرف ہے وڈی عزت ہے آلِ محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دے دربار پاک وچ اے کتاب ٫٫ سجدہ ،، لِکھ کے اُنہاں اپݨی تے اپݨے سنگتیاں دی آخرت سنواری ہے ۔ سرائیکی ادب دی دُنیا وچ بہوں وڈا اضافہ کیتائے ہے ۔ اللّٰہ پاک اپݨی بارگاہ وچ قبول فرمائے آمین

     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )
     ذاکر مشتاق حسین جعفری ، منکیرہ ( بھکر )

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    Dubai Naama

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک نے مشترکہ طور پر بتایا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ دنیا کی سات بڑی اور ترقی یافتہ معیشتیں "جی7” کہلاتی ہیں، جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریک شامل ہیں۔ امریکہ بجٹ اور دفاعی  اعتبار سے بڑا ملک ضرور ہے لیکن یہ امریکہ ہی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بھی ہے۔ امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ مئی 2025 تک 36.2 ٹریلین ڈالر (36 ہزار 200 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گیا تھا، جو ملک کی تاریخی بلندی تھی۔ یہ قرض ملک کی کل جی ڈی پی سے بھی زیادہ بنتا ہے اور مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے یعنی اس وقت بھی امریکہ کا کل قرضہ 36.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے  جس کے 36,200,000,000,000 اعداد ہیں۔ یہ امریکہ کا قومی قرضہ ہے۔ ایران پر  12,840,000,000 ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کی پابندیاں تقریباً 45 سال (1979 کے انقلاب ایران) سے عائد ہیں، جن میں شدت اور نرمی آتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی 8 سالہ میزائل پابندیاں 18 اکتوبر 2023 کو ختم ہوئیں۔ تاہم امریکی یکطرفہ اقتصادی اور عسکری پابندیاں ایران پر اب بھی جاری ہیں، اور اسے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ اس  وجہ سے ایران کی کرنسی کی قدر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ ایک امریکی ڈالر 1,321,725.00 ایرانی ریال کا ہے، جو الفاظ میں تیرہ لاکھ ایرانی ریال سے زیادہ بنتے ہیں۔ ایران میں بکنے والے باغیوں کی کمی نہیں ہے جو ایرانی ٹاپ لیڈرشپ کی مخبری کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت بھی سرفہرست ہے۔ اگر پیسے سے ملکوں کی غیرت خریدی جا سکتی تو جتنی ایرانی کرنسی ڈؤن ہے اس سے چند سو ایرانی غدار تو کیا پورا ملک ہی خریدا جا سکتا ہے، پھر جنگوں کی ہار جیت یا ہتھیار پھینکنے کا تعلق ملکی معیشت یا ترقی یافتہ ہونے پر ہو تو افغانستان میں روس اور امریکہ کو افغانیوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیئے دہائیوں تک ناک رگڑنے کی کیا ضرورت تھی۔

    بلاشبہ "گروپ آف سیون” دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک کی ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔ یہ  ایک بااثر بین الاقوامی فورم ہے۔ یہ ممالک عالمی دولت کا 58 فیصد اور خام ملکی پیداوار کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، جو عالمی معاشی پالیسیوں، سلامتی اور اہم بین الاقوامی مسائل پر سالانہ اجلاس کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دنیا کی سب سے بڑی آئی ایم ایف یعنی ترقی یافتہ معیشتوں کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، جو عالمی سیاست اور اقتصادیات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ جی7 فورم 1975ء میں قائم ہوا تھا۔ جس طرح آج ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے، 1975 میں بھی دنیا کو معاشی بحرانوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا تھا۔ ہرمز کی تنگ آبی گزرگاہ پر ایران کو مکمل کنٹرول حاصل ہے جو دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد سے 25 فیصد تک تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں ایران نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں جن میں وہ مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی خطرناک بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 103 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 98 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جو 2020ء کے بعد سے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ گروپ 6 ممالک پر مشتمل تھا، لیکن جلد ہی کینیڈا کی شمولیت سے یہ جی7 بن گیا۔ اس فورم کا مقصد دنیا کے اہم معاشی اور سیاسی مسائل پر بات چیت اور مشترکہ حل تلاش کرنا بھی تھا۔ ایران کی جنگی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بحر ہرمز کی بندش کو ایک عالمی معاشی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر کہ، "ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا”، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو دہائی دی ہے کہ وہ ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیئے اس کی مدد کریں۔ایران چند ہفتے یا مہینوں  آبنائے ہرمز کو بند رکھے رہنے میں کامیاب رہا اور امریکہ اسرائیل نے بھی ایران حملے کرنے جاری رکھے اور "سیز فائر” نہ ہوئی تو دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور دنیا بھر کو تاریخ کا سب سے بڑا معاشی بحران دیکھنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیج رہا ہے، اور پھر بشمول فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے بحری جہاز بھیجیں۔ حد تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس سے بھی مدد مانگ لی، جو جنگ میں ایران کے حلیف ہیں، جبکہ چین روس سے بذریعہ زمین تیل بھی لے رہا ہے، اور امریکہ کی ٹکر کی ان دونوں عالمی طاقتوں کو تیل کی اتنی کوئی مجبوری بھی نہیں ہے۔

    امریکی صدر نے اسی دوران یہ بیان بھی جاری کیا کہ "ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کا 100 فیصد تباہ کر دیا ہے۔” آبنائے ہرمز میں عالمی مدد لینے کے لیئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں میزائل بھی مار سکتا ہے اور بارودی سرنگیں بھی بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایران کی طاقت کو سو فیصد ختم کر دیا گیا ہے تو پھر دنیا کو کسی قسم کے معاشی بحران کا خطرہ نہیں ہونا چایئے۔ امریکی صدر یہ حربے ایران پر صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔

    اگرچہ دنیا کے اقتصادی استحکام، بین الاقوامی سلامتی، توانائی کی پالیسیوں، جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقیاتی معاونت جیسے امور میں جی7 کے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا بھر میں ان کا معاشی اثر و رسوخ ہے اور یہ ممالک عالمی دولت کا اٹھاون فیصد اور عالمی جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ بھی رکھتے ہیں لیکن  جنگ تو جنگ ہے جس کا تعلق فتح اور شکست سے ہوتا ہے۔ پھر ویت نام جیسی امریکی جنگ کی طرح بعض جنگیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق ہار جیت کی بجائے ان سے نکلنے والے نتائج اور اثرات سے ہوتا ہے۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ کو اپنے ہی ملک میں "بیک فائر” ہو رہا ہے وہاں پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحران کا الزام امریکہ اور اسرائیل کو دے رہی ہے کیونکہ بے بنیاد الزامات لگا کر اس جنگ کی ابتداء امریکہ اور اسرائیل ہی نے کی تھی۔ 

    جی7 کے اجلاسوں میں یورپی یونین بھی ایک مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتی ہے، جس سے اس کی عالمی اہمیت کا وزن بڑھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں، جی7 نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات، ایران کے ایٹمی پروگرام، یوکرین روس جنگ، اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے اہم معاملات پر مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں۔ یہ گروپ عالمی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل جیسے اتحادیوں کی حمایت اور ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے۔

    جی7 دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ طاقتوں کا ایک اہم اتحاد ضرور ہے لیکن اس کا حالیہ کلیدی سیاسی کردار جنگ میں ایران کی مخالفت اور امریکہ اسرائیل کے حلیف جیسا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی حالیہ سمٹ میں ایران کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے جی7 نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اب اسی پس منظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جی7 کے طاقتور وجود کو ایران کے خلاف ایک اور نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران عنقریب  ہتھیار پھینک دے گا یعنی وہ اپنی شکست تسلیم کر لے گا۔

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    Dubai Naama

    بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کا پرچار کرتے ہیں۔ موصوف نے دنیا کی سات جنگیں بند کروانے کا دعوی کیا۔ وہ امن کا نوبل انعام لینے کے خواہش مند رہے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن بحالی کے لیئے "غزہ امن بورڈ” بھی بنایا، جس کے وہ تن تنہا تاحیات صدر بن بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی جنیوا میں ایران سے ہونے والے امن مذاکرات کے عین درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو نیتن یاہو سے مل کر ایران پر حملہ بھی کر دیا، اور موقف یہ اختیار کیا کہ وہ ایسا کر کے خطے میں امن بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر کے اس امن پسند چہرے کو دنیا نے اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ یہ کتنا حقیقی چہرہ ہے۔ کیا اس چہرے کے پیچھے خود ڈونلڈ ٹرمپ بولتے ہیں؟ ڈونلد ٹرمپ  کہہ سکتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ شائد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جو اپنے چہرے پر امن کا ماسک چڑھائے بغیر دنیا میں امن بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کے ذریعے انسانی خون بہانے اور امن کے درمیان ایک مدھم اور بلکل نازک سی لکیر ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی موجودہ جنگ کی روشنی میں، اب یہ راز پوری دنیا پر کھل گیا ہے کہ امریکی صدر امن کی بحالی کی آڑ میں امن پسندی کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ اس جنگ کے بعد انہوں نے دنیا بھر کو ایک بڑی اور ہولناک تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے نام پر سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں  حسب روایت ایک بار پھر جنگ بندی کو ویٹو بھی کیا۔ اس جنگی حکمت عملی کو ” عالمی دہشت گردی”  کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کی سلامتی اور بقا چاہتے ہیں جس کا وزیراعظم نیتن یاہو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کا جنگی سزا یافتہ مفرور مجرم ہے۔ ایک سابق امریکی میرین کے بقول یہ جنگ ظلم، ناانصافی اور بربریت کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "اسکول پر پہلے حملے کے بعد، جو بچے بچ گئے تھے، ان کے ماں باپ کو بلایا گیا، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان پر بمباری کر دی گئی۔” ان کے مطابق، "امریکہ نے جنگ کے پہلے دن ایک ایسے مرکز پر چار کروز میزائل داغے تھے جسے انقلابی گارڈ کمانڈ نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے خالی کر دیا تھا۔ تین میزائل خالی گوداموں پر لگے، ان میزائلوں میں سے چوتھا میزائل اس مقام کے اوپر منڈلا رہا تھا، معلومات جمع کر رہا تھا اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات واپس بھیج رہا تھا۔ لیکن اسرائیل امریکہ نے جس مقام کو نشانہ بنایا تھا، انہوں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں، تو انہوں نے اس چوتھے میزائل کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ میزائل اوپر گیا، پھر نیچے آیا اور ان بچوں اور والدین کو جا لگا۔ اس میزائل میں ایک تھرمو بیریک ہتھیار، یعنی فیول ایئر ایکسپلوسیو تھا۔ چنانچہ انہوں نے بٹن دبایا اور اس اضافی ایندھن کو تھرمو بیریک ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ جن لوگوں کو وہ بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے، وہ دراصل وہ بچے تھے جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے۔ انہوں نے اس تھرمو بیریک کروز میزائل کو بم میں بدل دیا، اور ان بچوں جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں کو زندہ جلا دیا۔ اس سے 170 طالبات، بچے اور ان کے والدین قتل ہو گئے۔ یہ امریکی میرین کہتا ہے، "تم قاتل ہو اور جنگی مجرم ہو۔” لیکن امریکی صدر ٹرمپ اب بھی اپنے اوپر امن پسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی

    امریکی صدر کی خواہش ہے کہ دنیا کے سارے ممالک ان کی مرضی کے مطابق چلیں, اسکے غلام بن کر رہیں,جو ملک اسکی غلامی سے انکار کر دے تو پھر وہ ایک دم امن کیلیے خطرہ بن جاتا ہے۔ عالی مقام، امریکی صدر کو بس یہی ایک بہانہ چایئے جس کے بعد وہ امن کے نام پر اس کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔

    مشرق وسطی کے عرب مسلم ممالک ٹرمپ کا آسان ٹارگٹ ہیں جن کو قابو کرنے کے لیئے امن کی آڑ میں پہلے ٹرمپ نے ان ممالک سے اڈے لیئے اور انہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا اور اب ایران کے خلاف ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کو بچانے کے لیئے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ ایک عرب فیصل بن فرحان آل سعود نے اس صورتحال پر بڑی برمحل بات کہی کہ، "36 سال تک ہمیں یقین دلایا جاتا رہا کہ امریکی اڈے ہماری حفاظت کے لیے ہیں مگر پہلی جنگ میں ہی ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے۔”. ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ کی سیاست میں یہ جملہ میزائلوں سے زیادہ اثر رکھنے والا ہے، جو خلیجی ممالک کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے۔ 

    کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی دفاعی اور سیاسی پالیسیوں پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کا بیان عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں کو امریکہ کے بارے اپنی پالیسیاں ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ اور ٹرمپ جیسے بے وفا صدر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی، اور جب خلیجی اتحادی ممالک کی حفاظت کا وقت آیا تو امریکی نے اس جنگ میں خطے میں امن قائم کرنے کے نام پر مسلم بردار ممالک کو آپس میں لڑانے کے لیئے اکیلا چھوڑ دیا۔

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • راہِ سلوک اور سالک محبوب

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    میرے تبصرے کا عنوان کتاب کے مندرجات سے میل تو نہیں کھاتا لیکن یہ عنوان دینے کی ایک خاص وجہ ہے جو مصنف کی شخصیت سے متعلق ہے۔ اگر آپ مصنف سے نہیں بھی ملے تو بھی آپ کتاب کے مطالعے کے بعد جان جائیں گے کہ میں نے تبصرے کا یہ عنوان کیوں رکھا؟ برادرم سالک محبوب اعوان گہرے صوفیانہ مزاج کے انسان ہیں اور ان کی تحریریں بھی ان کے مزاج کے عین مطابق ہوتی ہیں اسی بناء پر میں نے اپنے تبصرے کو یہ عنوان دیا!

    عرض کچھ یوں ہے کہ سفر نامہ نگاری ایک ایسی ادبی صنف ہے جو ہر نوع کے قاری کے لیے قابلِ  قبول ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی دلچسپی کا عنصر رکھتی ہے اور اس صنف کو ادبی و غیر ادبی دونوں طرح کے ماحول یکساں قبول کرتے ہیں۔ اگر سفر نامہ نگار سالک محبوب اعوان جیسے کہنہ مشق اور محتاط لکھاری ہوں تو سفر نامہ کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ میری خوش بختی کہ میں راہِ ادب کا ادنیٰ مسافر ہوں اور مجھے اس سفر میں برادرِ مکرم سالک محبوب جیسے ہم سفر میسر ہیں جو قدم قدم پر میری رہ نمائی کا سبب ہیں۔ حیرت ہے کہ موصوف نے زیر بحث کتاب پر تاثرات قلم بند کرنے کے لیے ناچیز کا بھی انتخاب کیا جسے ادب کا طالب علم کہنا بھی شاید مناسب نہیں خیر بہ موجب حکم کتاب ہذا پر میرے تاثرات بہ صورت تبصرہ  پیش خدمت ہیں۔ 

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    سالک صاحب کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز سال 2019 سے تب ہوا جب پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کے ہم راہ وہ ہمارے گاؤں تشریف لائے۔ ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف میں عجز و انکسار اور شخصی مٹھاس ہے جو ان کے ملاقاتی کو ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ خوبیاں ان کی تحریر میں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر گہرے مطالعاتی تجزیے اور شعوری ارتقاء کی عکاس ہوتی ہے۔ وہ جب قلم سنبھالتے ہیں تو لفظوں میں اپنی شخصیت کی شیرینی سمو کر اس انداز سے نذرِ قارئین کرتے ہیں کہ قاری مضامین مکمل ہونے تک راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ آپ ان کا کوئی بھی مضمون اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ میرے بیان سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ سفر نامے کی بات کی جائے تو جوں جوں آپ ان کی تحریر کے ساتھ سفر کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ بہ نفسِ نفیس اس سفر میں شریکِ سفر ہیں یہ خوبی انہیں اس صنف ادب میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ماہر معاشیات ہیں اور اس مضمون پر ان کی پہلے سے دو کتب موجود ہیں جن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مضمون خشک سے خشک تر ہی کیوں نہ ہو جب وہ سالک بھائی کے قلم سے ہو کر قرطاس پر بکھرے گا تو وہ الگ ہی چاشنی لیے ہوئے ہو گا۔ کتاب ہذا میں سفر لاہور کی یادداشتیں بھی حصہ بنائی گئی ہیں جس میں احقر بھی موصوف کے ہم سفر رہا۔ ان مضامین میں جا بہ جا آپ مجھے بھی مصنف کے ساتھ ساتھ پائیں گے۔ سالک بھائی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی لطف ہے جو آپ ان کے آنے والے مضامین میں بہ قدر جسہ وصول کر پائیں گے۔ ان کی تحاریر ادبی کسوٹی پر ہر زاویے سے پورا اترتی ہیں۔ آپ کے مضامین جہاں ادب کی چاشنی سے بھرپور ہیں وہیں اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں جو مصنف کی تصنیفی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ 

    آپ جوں جوں کتاب کے ساتھ سفر کریں گے تو اس کے مندرجات میرے تبصرے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے جائیں گے۔ 

    عتیق اعوان
    بانی رکن 
    "قلم قبیلہ” سراڑ 
    مظفرآباد

    08 جنوری 2026

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]

  • جڑواں ذرات کے زریعے دور دراز پیغام رسانی

    جڑواں ذرات کے زریعے دور دراز پیغام رسانی

    Dubai Naama

    کوانٹم انٹینگلمنٹ کے مظہر کی دریافت نے بغیر کسی مادی وسیلے کے پیغامات کو ایک ذہن سے دوسرے ذہن میں منتقل کرنے کا قوی امکان پیدا کر دیا ہے۔ کائنات کا ایک اکائی سے پھیلاو’ ہر چیز کا ہر دوسری چیز سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ یہ تعلق کوانٹم انٹینگلمنٹ (ربط) جیسا ہوتا ہے جو ان جڑواں کوانٹم ذرات (اِنٹینگلڈ پارٹیکلز) پر مبنی ہوتا ہے جنہیں اردو زبان میِں جڑواں زرات کہا جا سکتا ہے۔ یہ کائنات کے بنیادی ذرات میں سے ہیں جو ایک دوسرے سے جتنی مرضی دوری پر ہوں چاہے وہ اربوں نوری سالوں کی مسافت ہی کیوں نہ ہو وہ ایک بار  کوانٹم سطح پر ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو وہ کبھی جدا نہیں ہوتے ہیں اور آپس میں ایک مستقل رابطہ قائم رکھتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کو پیغامات کی ترسیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر آپ ایک کوانٹم انٹینگلڈ فٹ بال کے دو ٹکڑے کر کے ایک کو کسی سائنسی لیبارٹری میں زمین پر اور دوسرے کو کائنات میں  نوری سالوں کے فاصلے پر کسی کہکشاں وغیرہ کی سطح پر رکھ دیں اور اس میں کسی ایک ٹکڑے کو کلاک وائز حرکت دیں گے تو دوسرا ٹکڑا کوئی وقت ضائع کیئے بغیر اینٹی کلاک وائز حرکت کرے گا یعنی زمین والے آدھے فٹ بال کو حرکت دیں گے تو بغیر کسی مادی وسیلے کے کہکشاں پر پڑے دوسرے آدھے فٹ بال میں بھی فورا حرکت پیدا ہو گی۔

    دراصل کوانٹم انٹینگلمنٹ فطرت کا ایسا مظہر ہے جس کے سامنے عقل عاجز ہے اور اس کی تشریح و توضیح کرنے سے قاصر ہے۔ کوانٹم انٹینگلمنٹ عہدِ حاضر کے انسانوں کے سامنے سائنس کا ایسا معجزہ ہے کہ مزہب کی پوری تاریخ میں شائد ہی اس سے ملتا جلتا کوئی معجزہ ہوا ہو۔ کوانٹم انٹینگلمنٹ مادے کی دہری فطرت کے ایسے مظاہرے کا نام ہے جس میں فاصلے اور رفتار حقیقی معنوں میں اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ اگر مادے کے دو پارٹیکلز آپس میں اِنٹینگلڈ ہو جائیں یعنی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جائیں، یعنی سادہ لفظوں میں یک جان ہو جائیں تو پھر بے شک درمیان میں اربوں نوری سالوں کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو، ایک پارٹیکل کے ساتھ جو کچھ پیش آئے گا دوسرا ٹھیک اُسی وقت اس تبدیلی کو محسوس کر لے گا۔ 

    کوانٹم سطح پر اس جڑواں حرکت کو تجربات سے ثابت کیا جا چکا ہے۔ ٹیلی پورٹیشن کا مظہر بھی اس سے ملتا جلتا ہے جس کی کامیابی پر سائنس دان یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس کے ذریعے بغیر فاصلہ طے کیئے بنی نوع انسان ستاروں کی انتہائی دوری تک سفر طے کر سکے گا اور بھاری چیزوں کی ترسیل کو بھی ممکن بنا سکے گا۔ کوانٹم سائنس، جڑواں ذرات، زہنی علوم اور دیگر جدید سائنسز پر جونہی انسان زیادہ عبور حاصل کرے گا تو عام انسان بھی ذہنی ٹیکنالوجی کے ذریعے بغیر کسی تار، وائرلیس یا فون وغیرہ کے فقط اپنی سوچ (اور خیالات) کے ذریعے ہی ایک دوسرے کو پیغامات بھیج سکیں گے اور اس ٹیکنالوجی میں مزید ترقی کے بعد ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اور حتی کہ  اربوں کلومیٹرز کی دوری پر بھی اسی طرح ایک دوسرے سے بات چیت اور گپ شپ لگا سکیں گے جیسے وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوں۔

    سائنس دانوں نے اِنٹینگلڈ پارٹیکلز کے بارے دعوی کیا ہے کہ ان کی رفتار لہروں کی شکل میں روشنی کی رفتار جو کہ 3لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے 10000 گنا زیادہ ہے جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے کو انفارمیشن بھی منتقل کر سکتے ہیں۔ زندگی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ عام گفتگو اپنے دماغ کے نیوروجیکل نظام کے ذریعے کرتے ہیں اور یہ "ٹیلی پیتھک کمیونیکیشن” بھی اسی نظام کے زیراثر ہوتی ہے۔ آنے والے ادوار میں "دماغی چپس” کا استعمال بھی عام ہو سکتا ہے جو عام انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ فاصلوں کو ختم کر دے  گا۔

    یہ جدید کمیونیکیشن سائنسی ولایت جیسا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹیلی پیتھی کو مستقبل کے ابلاغ کے آلہ کے طور پر امید کی جا سکتی ہے؟ میرا جواب ہاں میں ہے۔ اس تجربے سے اکثر لوگ گزرتے ہیں کہ جب آپ کسی کو یاد کرتے ہیں تو وہ اچانک سامنے آپ کے سامنے آ جاتا ہے یا اس کی فون کال وغیرہ آ جاتی ہے۔ اس سے ملتے جلتے ناجانے کتنے ہی واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہر انسان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ایسے واقعات میں درحقیقت آپ کے خیالات دوسروں کے ذہن کو متاثر کر رہے ہوتے ہیں، انٹینگلمنٹ کا سائنسی اور ٹیلیپیتھک  عمل واقع ہو رہا ہوتا ہے، نیوروجیکل نظام متحرک ہو چکا ہوتا ہے اور جڑواں ذرات اپنا کام دکھا رہے ہوتے ہیں۔

    جڑواں ذرات کے زریعے دور دراز پیغام رسانی

    انٹینگلمنٹ ایک کوانٹم مکینیکل فینومینا ہے جس میں دو ذرات ایک موج کی صورت دور دراز ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی بھی ایسی صلاحیت ہے جو زبان پر مبنی خیالات کو منتقل کر سکے جنہیں دوسرا آدمی سننے کے قابل بھی ہو۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ایک آدمی کا نیوروجیکل کا نظام کسی باہر کے آدمی کے نیوروجیکل نظام کو کتنا متاثر کر سکتا ہے۔

    ابھی سائنس دان نیورانز کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یاداشت نیورل ساختوں پر ریکارڈ ہوتی ہے جیسے یو ایس بی پر ہوتی ہے تو کیا یہی توانائی دماغ سے باہر کسی مادی وجود یا کسی کے نیورل ٹشوز پر بھی بغیر واسطے کے ریکارڈ ہو سکتی ہے؟ جی ہاں یہ ٹیلی پیتھی کی ریکارڈنگ بلکل ہو سکتی ہے۔ ٹیلی پیتھی دماغی لہر ہے یا الیکٹرومیگنیٹک لہر ہے۔

    ہمارے دماغ کے نیورانز کے سرکٹ کی تربیت کی جا سکتی ہے کہ وہ الیکٹرومیگنیٹک لہروں کے لئے ٹرانسمیٹرز اور ریسیورز کے طور پر کام کریں، ایسے آلات ایجاد کئے جا سکتے ہیں جو ہمارے دماغ کے سگنلز کو موصول کریں۔  ہمارے تمام سائنسی شعبے بشمول سائیکالوجی مادی نظام سے متعلق ہیں حتی کہ ہمارا جسم اور ہمارا نیورو نظام بھی نامیاتی مادے سے بنا ہوا ہے جیسا کہ ہمارے دیگر الیکٹرونکس آلات ہیں۔ اسی طرح دماغ کے بغیر خیالات کا کوئ وجود محال ہے جیسا کہ آنتوں کے بغیر ہاضمہ کا نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ جانوروں کے دماغ الیکٹرومیگنیٹک لہروں کو شناخت کر سکتے ہیں جیسا کہ کتے ڈرگز سے خارج ہونے والی لہروں کو سونگھ لیتے ہیں یا سانپ کانوں کے بغیر سن سکتے ہیں کیونکہ ان کے جسم کی خال آواز کی لہروں کو شناخت کر سکتی ہے۔ کسی دماغ میں زیادہ اور کسی میں کم استعداد ہوتی ہے لیکن ماحول میں موجود آوازوں کے دیگر شور سے ایک خاص آواز کو ہمارا دماغ شناخت کر سکتا۔

    سائنس دانوں کا دعوی ہے کہ انسان کی سوچ اور خیالات انرجی پر مشتمل ہوتے ہیں اور جیسے انرجی سفر کرتی ہے خیالات بھی سفر کرتے ہیں جبکہ خیالات کا نظام بھی  جڑواں ذرات (اِنٹینگلڈ پارٹیکلز) سے زیادہ تیز رفتار نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ہے. اپنی سوچ اور خیالات انہی ذرات پر سوار کر کے مطلوبہ ذہن تک پہنچائے جا سکتے ہیں حتی کہ اب تو سائنسی ترقی اتنی برق رفتار ہو گئی ہے کہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ دماغ کے بغیر بھی خیالات پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ کیا ہماری سوچ اور حواس "غیب دانی” بھی جانتے ہیں اور کیا کسی دن ہماری "چھٹی حس” بھی مکمل طور پر متحرک ہو سکتی ہے؟ کبھی ایسا ہو گیا اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے کمیونیکیشن بھی ہونے لگی تو آلہ مواصلت اور  فائبر و تاروں کا یہ سارا نظام چوپٹ ہو جائے گا۔

    کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

    اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

    [email protected]